صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
715. (482) بَابُ اسْتِحْبَابِ قِيَامِ اللَّيْلِ يَحُلُّ عُقَدَ الشَّيْطَانِ الَّتِي يَعْقِدُهَا عَلَى النَّائِمِ
قیام اللیل مستحب ہے، اس سے شیطان کی وہ گرہیں کھل جاتی ہیں جو وہ سونے والے پر لگاتا ہے،
حدیث نمبر: Q1131
فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ بِحَلِّ عُقَدِ الشَّيْطَانِ عَنْ نَفْسِهِ
اس سے شیطان کی گرہیں کھل جانے کی وجہ سے وہ صبح کے وقت چاق و چوبند اور خوش مزاج ہوتا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1131]
حدیث نمبر: 1131
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلاثَ عُقَدٍ إِذَا هُوَ نَامَ، كُلُّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْهِ يَقُولُ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلانَ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی شخص کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے جبکہ وہ سویا ہوتا ہے۔ ہرگرہ پر یہ پھونک دیتا ہے، تیرے لئے رات بڑی طویل ہے۔ چنانچہ اگر وہ بیدار ہوگیا اور اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وضو کر لیتا ہے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں۔ پھر اگر نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔ چنانچہ وہ صبح کے وقت ہشاش بشاش اور خوش مزاج ہوتا ہے وگرنہ صبح کے وقت پریشان حال، خراب طبیعت اور سست ہوتا ہے۔“ یہ جناب الدورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1131]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1142، 3269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 776، ومالك فى (الموطأ) برقم: 605، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1131، 1132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2553، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1606، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1306، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1329، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4717، 4802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7428»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1131 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1131
فوائد:
➊ رات کو نیند کے وقت شیطان ہر انسان کی گردن کے پیچھے تین گرہیں باندھتا ہے۔ ان گرہوں سے مراد یا تو یہ ہے کہ جیسے جادوگر گرہیں باندھتا ہے، شیطان گرہیں باندھتا ہے، یا وہ گرہوں میں پھونکتا ہے، جس کی تاثیر سے انسان نماز فجر سے غافل رہتا ہے۔
شیطان کی اس تدبیر کا توڑ: ➊ بیدار ہوتے وقت مسنون اذکار کا اہتمام۔ ➋ وضو کرنا۔ ➌ نماز ادا کرنا۔
ان اعمال سے شیطانی اثر زائل ہو جاتا ہے اور انسان خوش و خرم اور چاک و چوبند ہو کر دن گزارتا ہے اور تمام شرعی امور احسن طریقے سے انجام دیتا ہے۔ بصورت دیگر اس پر شیطان کا غلبہ رہتا ہے اور وہ اکثر اعمال میں توفیقِ الٰہی سے محروم رہتا ہے۔
➋ اس حدیث میں صبح جاگتے وقت بیداری کی مسنون ادعیہ کے اہتمام، وضو کرنے اور نماز ادا کرنے کی ترغیب کا بیان ہے۔
➊ رات کو نیند کے وقت شیطان ہر انسان کی گردن کے پیچھے تین گرہیں باندھتا ہے۔ ان گرہوں سے مراد یا تو یہ ہے کہ جیسے جادوگر گرہیں باندھتا ہے، شیطان گرہیں باندھتا ہے، یا وہ گرہوں میں پھونکتا ہے، جس کی تاثیر سے انسان نماز فجر سے غافل رہتا ہے۔
شیطان کی اس تدبیر کا توڑ: ➊ بیدار ہوتے وقت مسنون اذکار کا اہتمام۔ ➋ وضو کرنا۔ ➌ نماز ادا کرنا۔
ان اعمال سے شیطانی اثر زائل ہو جاتا ہے اور انسان خوش و خرم اور چاک و چوبند ہو کر دن گزارتا ہے اور تمام شرعی امور احسن طریقے سے انجام دیتا ہے۔ بصورت دیگر اس پر شیطان کا غلبہ رہتا ہے اور وہ اکثر اعمال میں توفیقِ الٰہی سے محروم رہتا ہے۔
➋ اس حدیث میں صبح جاگتے وقت بیداری کی مسنون ادعیہ کے اہتمام، وضو کرنے اور نماز ادا کرنے کی ترغیب کا بیان ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1131]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1131 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي