صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
714. (481) باب كراهة ترك قيام الليل وإن كان تطوعا لا فرضا
قیام اللیل ترک کرنا ناپسندیدہ ہے، اگرچہ وہ نفل ہی ہے، فرض نہیں
حدیث نمبر: 1130
نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا مَنْصُورٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو الأَحْوَصُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنِهِ، أَوْ فِي أُذُنَيْهِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى
سیدنا عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اُس نے عرض کی کہ بیشک فلاں آدمی کل رات نماز سے سویا رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس آدمی کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے (اس لئے صبح تک بیہوش سویا رہا ہے)۔“ یہ ابوموسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1144، 3270، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 774، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1130، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1607، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1330، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4801، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3627»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1130 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1130
فوائد:
➊ اس حدیث میں رات کی نماز مقصود ہے یا صبح کی فرض نماز، اس بارے میں وضاحت نہیں ہے، تاہم ** [صحیح ابن حبان: 2562] ** میں صراحت ہے کہ اس سے مراد فرض نماز کے وقت سوئے رہنے والا شخص ہے۔
➋ شیطان پیشاب کے لیے جسم کے حساس حصے کا انتخاب کرتا ہے جس کا اثر و نفوذ جسم کے تمام اعضا تک ہوتا ہے۔ پھر وہ پورے وجود پر غلبہ پا لیتا ہے، لہذا صبح کی فرض نماز سے غفلت نہ برتی جائے۔
➊ اس حدیث میں رات کی نماز مقصود ہے یا صبح کی فرض نماز، اس بارے میں وضاحت نہیں ہے، تاہم ** [صحیح ابن حبان: 2562] ** میں صراحت ہے کہ اس سے مراد فرض نماز کے وقت سوئے رہنے والا شخص ہے۔
➋ شیطان پیشاب کے لیے جسم کے حساس حصے کا انتخاب کرتا ہے جس کا اثر و نفوذ جسم کے تمام اعضا تک ہوتا ہے۔ پھر وہ پورے وجود پر غلبہ پا لیتا ہے، لہذا صبح کی فرض نماز سے غفلت نہ برتی جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1130]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1130 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود