صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
721. (488) باب استحباب صلاة الليل قاعدا إذا مرض المرء أو كسل
جب آدمی بیمار ہو جائے یا سُستی محسوس کرے تو رات کی نماز بیٹھ کر پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1137
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، يَقُولُ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ :" لا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يَذَرُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا" . ثنا بِهِ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، وَقَالَ: إِذَا مَلَّ أَوْ كَسِلَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الشَّيْخُ عَبْدُ اللَّهِ هُوَ عِنْدِي الَّذِي يَقُولُ لَهُ الْمِصْرِيُّونَ وَالشَّامِيُّونَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ، رَوَى عَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَارًا
جناب عبداللہ بن ابی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رات کا قیام مت چھوڑنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوجاتے یا سُستی محسوس کر تے تو بیٹھ کر نماز تہجد پڑھ لیتے۔ جناب علی بن مسلم نے یہ الفاظ کیے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھک جاتے یا سُستی محسوس کرتے (تو بیٹھ کر تہجّد ادا کر لیتے) ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس شیخ عبداللہ سے مراد ہی ہیں جنہیں مصری اور شامی راوی عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں۔ ان سے معاویہ بن صالح نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1137، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1162، 1163، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1307، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4797، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26755، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1622»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1137 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1137
فوائد:
قیام اللیل کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
اور اس کا اہتمام کرنے کے بعد حالتِ صحت و حالتِ مرض میں بھی اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
حتیٰ کہ انسان اگر بیمار ہو تو بیٹھ کر اس کا اہتمام کرے۔
قیام اللیل کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
اور اس کا اہتمام کرنے کے بعد حالتِ صحت و حالتِ مرض میں بھی اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
حتیٰ کہ انسان اگر بیمار ہو تو بیٹھ کر اس کا اہتمام کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1137]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1137 in Urdu
عبد الله بن عفيف النصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق