صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
722. (489) باب استحباب إيقاظ المرء لصلاة الليل
رات کی نماز (تہجّد) کے لئے آدمی کو جگانا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، حَدَّثَهُ، كَذَا، قَالَ لَنَا ابْنُ رَافِعٍ: إِنَّ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلا تُصَلُّونَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بَيْدِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يُرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذِهِ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”تم نماز (تہجّد) کیوں نہیں پڑھتے؟“ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول، یقیناً ہمارے نفس اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں پس اگر وہ ہمیں اُٹھانا چاہے گا تو اُٹھا دے گا، یہ بات سن کرنبی کریم واپس پلٹ گئے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مڑتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے سنا ہے - «وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا» [ سورہ الکھف: 54 ] ”اور انسان ہمیشہ سے ہر چیز سے زیادہ جگڑنے والا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1140]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1127، 4724، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 775، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1139، 1140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2566، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1610، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4715، وأحمد فى (مسنده) برقم: 716»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1140 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1140
فوائد:
➊ قیام اللیل کی ترغیب دینا جائز ہے اور انسان اپنے قریبیوں کو ادائیگی کا حکم دے سکتا ہے۔
➋ امام و حاکم اپنی رعایا کے دینی و دنیوی مصالح کی نگرانی کرے۔
➊ قیام اللیل کی ترغیب دینا جائز ہے اور انسان اپنے قریبیوں کو ادائیگی کا حکم دے سکتا ہے۔
➋ امام و حاکم اپنی رعایا کے دینی و دنیوی مصالح کی نگرانی کرے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1140]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1140 in Urdu
الحسن بن علي الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي