صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
749. (516) بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَنْ تُخَصَّ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي
دیگر راتوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ المبارك کی رات کو نماز تہجّد کے لئے مخصوص کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ، وَلا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی دنوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ المبارك کے دن کو (نفلی) روزے کے لئے خاص مت کرو۔ اور دیگر راتوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ المبارک کی رات کو نماز تہجّد کے لئے خاص نہ کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3612، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1176، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2764، 2765، 2768، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8582، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9250»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت زائدة بن قدامة الثقفي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله الحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي | ثقة متقن | |
👤←👥موسى بن عبد الرحمن الكندي، أبو عيسى موسى بن عبد الرحمن الكندي ← الحسين بن علي الجعفي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1176 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1176
فوائد:
➊ اس حدیث میں جمعہ کی رات کو قیام اللیل کے لیے خاص کرنے اور جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی واضح ممانعت ہے اور اس کی کراہت پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
➋ نیز علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ کی رات کی خاص نماز بدعت صلاۃ الرغائب مکروہ ہے۔
◈ ”اللہ تعالیٰ ہی اس نماز کے واضع اور گھڑنے والے کو ہلاک کرے، بلا شبہ یہ بدعات میں سے بدترین بدعت ہے، جو ضلالت و جہالت پر منتج ہے۔“ [شرح النووي: 19/8]
➊ اس حدیث میں جمعہ کی رات کو قیام اللیل کے لیے خاص کرنے اور جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی واضح ممانعت ہے اور اس کی کراہت پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
➋ نیز علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ کی رات کی خاص نماز بدعت صلاۃ الرغائب مکروہ ہے۔
◈ ”اللہ تعالیٰ ہی اس نماز کے واضع اور گھڑنے والے کو ہلاک کرے، بلا شبہ یہ بدعات میں سے بدترین بدعت ہے، جو ضلالت و جہالت پر منتج ہے۔“ [شرح النووي: 19/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1176]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1176 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي