صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. (92) باب الرخصة فى الوضوء بأقل من قدر المد من الماء
ایک مد سے کم پانی سے وضو کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 118
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ زَيْدٍ وَهُوَ حَبِيبُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَهُ"
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو تہائی مد پانی لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (وضو کیا اور) اپنے بازوؤں کو اچھی طرح ملا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1082، 1083، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 511، 580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 443، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 959، 960، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16704»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 118 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 118
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ ایک مد سے کم پانی سے وضو کرنا جائز ہے۔
وضو میں اعضائے وضو پر فقط پانی بہانا کافی نہیں، انہیں ہاتھ سے ملنا بھی لازم ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ ایک مد سے کم پانی سے وضو کرنا جائز ہے۔
وضو میں اعضائے وضو پر فقط پانی بہانا کافی نہیں، انہیں ہاتھ سے ملنا بھی لازم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 118]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 118 in Urdu
عباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري