صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
754. (521) بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا
نماز ظہر سے پہلے اور بعد میں نفل نماز کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، نَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا النُّعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمِثْلِهِ سَوَاءً
جناب عنبسہ سے مروی ہے کہ سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اُنہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور مذکورہ بالا روایت کے برابر روایت بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 728، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1185، 1186، 1187، 1188، 1189، 1190، 1191، 1192، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2451، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1177، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1795، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1250، 1269، والترمذي فى (جامعه) برقم: 415، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1141، 1160، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27406»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1192 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1192
فوائد:
➊ نماز ظہر سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعت نماز پڑھنا مستحب فعل ہے۔ [المغني: 318/3]
➋ ❀ «حُرّمَةُ اللَّهِ عَلَى النَّارِ» : نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور نماز ظہر کے بعد چار رکعتوں کی حفاظت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ آگ پر حرام کر دیتے ہیں۔ اسے حقیقت پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے کہ ایسے شخص کے جمیع بدن کو اللہ تعالیٰ آگ پر حرام کر دیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل وسیع تر اور رحمت بے کنار ہے، نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز ظہر سے قبل چار رکعات اور نماز ظہر کے بعد چار رکعتیں مؤکدہ اور مستحب ہیں اور ان کے اہتمام کے لیے مذکورہ ترغیب کافی ہے۔ [نيل الأوطار: 19/3، 20]
➊ نماز ظہر سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعت نماز پڑھنا مستحب فعل ہے۔ [المغني: 318/3]
➋ ❀ «حُرّمَةُ اللَّهِ عَلَى النَّارِ» : نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور نماز ظہر کے بعد چار رکعتوں کی حفاظت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ آگ پر حرام کر دیتے ہیں۔ اسے حقیقت پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے کہ ایسے شخص کے جمیع بدن کو اللہ تعالیٰ آگ پر حرام کر دیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل وسیع تر اور رحمت بے کنار ہے، نیز یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز ظہر سے قبل چار رکعات اور نماز ظہر کے بعد چار رکعتیں مؤکدہ اور مستحب ہیں اور ان کے اہتمام کے لیے مذکورہ ترغیب کافی ہے۔ [نيل الأوطار: 19/3، 20]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1192]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1192 in Urdu
محمد بن أبي سفيان القرشي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية