صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
758. (525) باب استحباب صلاة التطوع قبل المكتوبات وبعدهن فى البيوت
فرض نمازوں سے پہلے اور ان کے بعد نفل نماز گھروں میں پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلاةَ الْفَجْرِ"
جناب عبداللہ بن شقیق رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعات میرے گھر میں پڑھتے تھے، پھر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر واپس تشریف لاتے اور دو رکعات ادا کرتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر میرے گھر واپس آ کر دو رکعات ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عشاء کی نماز پڑھاتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوتے تو دو رکعات ادا کرتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نو رکعات وتروں سمیت ادا کرتے، اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعات ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد) تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، 1167، 1199، 1245، 1246، 1247، 1248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1199 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1199
فوائد:
➊ گزشتہ احادیث میں مؤکدہ سنتوں کی تعداد 10 بنتی ہے اور اس حدیث کی رو سے نمازِ ظہر سے قبل 4 سنتیں پڑھنے سے مؤکدہ سنتوں کی تعداد 12 ہو جاتی ہے۔
➋ لہٰذا 10 اور 12 سنتوں کا اہتمام مستحب فعل اور مسنون عمل ہے۔
➌ جس کی فضیلت حدیث 1188، 1189 میں بیان ہوتی ہے۔
➊ گزشتہ احادیث میں مؤکدہ سنتوں کی تعداد 10 بنتی ہے اور اس حدیث کی رو سے نمازِ ظہر سے قبل 4 سنتیں پڑھنے سے مؤکدہ سنتوں کی تعداد 12 ہو جاتی ہے۔
➋ لہٰذا 10 اور 12 سنتوں کا اہتمام مستحب فعل اور مسنون عمل ہے۔
➌ جس کی فضیلت حدیث 1188، 1189 میں بیان ہوتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1199]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1199 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق