صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
757. (524) باب ذكر صلاة النبى صلى الله عليه وسلم قبل المكتوبات وبعدهن
فرض نمازوں سے پہلے اور ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1198
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ" . قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذَكَرَتْ لِي حَفْصَةُ :" وَلَمْ أَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَكْعَتَيْنِ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے دو رکعات اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھتے تھے۔ مغرب کے بعد دو رکعات اور عشاء کے بعد بھی دو رکعات پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ اور مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا حالانکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی دو رکعات پڑھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قبل الصلوات المكتوبات وبعدهن/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 618، 1172، 1180، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 723، ومالك فى (الموطأ) برقم: 419، وابن الجارود فى "المنتقى"، 304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1111، 1197، 1198، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1587، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 433، 434، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1145، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3090، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4593»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1198 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1198
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ مؤکدہ سنتوں، مثلاً نمازِ ظہر سے پہلے اور بعد میں دو دو رکعت، نمازِ مغرب کے بعد دو رکعت، نمازِ عشاء کے بعد دو رکعت اور نمازِ فجر سے قبل دو رکعت کا اہتمام کرتے اور انہیں گھر پر ادا کرتے تھے۔
نیز نوافل کا گھر پر اہتمام مسجد میں اہتمام سے افضل اور زیادہ اجر کا باعث ہے، جیسا کہ حدیث 1203 اور 1204 میں وضاحت ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ مؤکدہ سنتوں، مثلاً نمازِ ظہر سے پہلے اور بعد میں دو دو رکعت، نمازِ مغرب کے بعد دو رکعت، نمازِ عشاء کے بعد دو رکعت اور نمازِ فجر سے قبل دو رکعت کا اہتمام کرتے اور انہیں گھر پر ادا کرتے تھے۔
نیز نوافل کا گھر پر اہتمام مسجد میں اہتمام سے افضل اور زیادہ اجر کا باعث ہے، جیسا کہ حدیث 1203 اور 1204 میں وضاحت ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1198]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1198 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية