صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. (93) باب ذكر الدليل على أن لا توقيت فى قدر الماء الذى يتوضأ به المرء، فيضيق على المتوضئ أن يزيد عليه أو ينقص منه،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے پانی کی اسی مقدار مقرر نہیں ہے کہ جس سے کمی و بیشی کرتے ہوئے وضو کرنے والا تنگی اور حرج محسوس کرے
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَوَضَّأُ رِجَالا وَنِسَاءً، وَنَغْسِلُ أَيْدِيَنَا فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم مرد وخواتین اکٹھّے وضو کیا کرتے تھے اور ایک ہی برتن سے اپنے ہاتھ دھوتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي