صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
780. (547) باب صلاة النبى صلى الله عليه وسلم عند الضحى
چاشت کے وقت بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان،
حدیث نمبر: Q1232
وَهَذَا مِنَ الْبَابِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْحُكْمَ لِلْمُخْبِرِ الَّذِي يُخْبِرُ بِكَوْنِ الشَّيْءِ، لَا مَنْ يَنْفِي الشَّيْءَ
اور یہ اس بات کے متعلق ہے جس کے بارے میں میں بیان کرچکا ہوں کہ حُکم اس خبر دینے والے کی خبر کے مطابق لگایا جائے گا جو کسی چیز کے ہونے کی خبر دیتا ہے نہ کہ اس کی خبر کے مطابق جو کسی چیز کی نفی کررہا ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: Q1232]
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الضُّحَى" . قَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ قَالَ فِي الْخَبَرِ: إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَهَذِهِ صَلاةُ الضُّحَى
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے۔ جناب مخرمی کہتے ہیں کہ ہمیں (ہمارے استاد نے) اس طرح مختصر روایت بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ روایت عاصم بن ضمرہ کی روایت کا اختصار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں یہ روایت اس سے پہلے لکھوا چکا ہوں۔ اس روایت میں ہے کہ جب سورج مشرقی جانب اتنا بلند ہوتا جتنا عصر کے وقت مغربی جانب بلند ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا فرماتے اور یہی چاشت کی نماز ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1232، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 471، وأحمد فى (مسنده) برقم: 693»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1232 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1232
فوائد:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ چاشت کا اہتمام کرتے تھے، اس پر دوام اختیار نہیں کرتے تھے۔
لہٰذا نمازِ چاشت کو کبھی کبھار چھوڑنا بھی جائز و مباح ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ چاشت کا اہتمام کرتے تھے، اس پر دوام اختیار نہیں کرتے تھے۔
لہٰذا نمازِ چاشت کو کبھی کبھار چھوڑنا بھی جائز و مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1232]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1232 in Urdu
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي