یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. (96) باب إباحة الوضوء من أواني الزجاج
شیشے کے برتن سے وضو کرنا جائزہے
حدیث نمبر: Q124
ضِدُّ قَوْلِ بَعْضِ الْمُتَصَوِّفَةِ الَّذِي يَتَوَهَّمُ أَنَّ اتِّخَاذَ أَوَانِي الزُّجَاجِ مِنَ الْإِسْرَافِ؛ إِذِ الْخَزَفُ أَصْلَبُ وَأَبْقَى مِنَ الزُّجَاجِ.
اس صوفی کے قول کے برعکس جو خیال کرتا ہے کہ شیشے کے برتن استعال کرنا اسراف ہے کیونکہ مٹّی کے برتن شیشے کے برتن سے زیادہ مضبوط اور دیرپا ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل/حدیث: Q124]
حدیث نمبر: 124
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا بِوَضُوءٍ فَجِيءَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ أَحْسَبُهُ قَالَ: قَدَحُ زُجَاجٍ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، فَحَزَرْتُهُمْ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ كَأَنَّهُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالُوا: رَحْرَاحٌ مَكَانُ الزُّجَاجِ بِلا شَكٍّ. نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو النُّعْمَانِ ، نا حَمَّادٌ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَارِثٍ: أُتِيَ بِقَدَحِ زُجَاجٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبِي النُّعْمَانِ: بِإِنَاءِ زُجَاجٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالرَّحْرَاحُ: إِنَّمَا يَكُونُ الْوَاسِعَ مِنْ أَوَانِي الزُّجَاجِ، لا الْعَمِيقَ مِنْهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لیے پانی منگوایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، روای کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے فرمایا تھا کہ شیشے کا پیالہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی اُنگلیاں اُس میں رکھیں (تو پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُنگلیوں سےچشمے کی طرح پھوٹنے لگا) چنانچہ لوگوں نے باری باری وضو کرنا شروع کردیا، میں نے ان کا اندازہ لگایا تو وہ تقریبا ستّر اور اسّی کے درمیان تھے۔ میں پانی کو دیکھنے لگا گویا کہ وہ آپ کی اُنگیوں کے درمیان سے اُبل رہا ہے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو حماد بن زید سےکئی راویوں نےبیان کیا ہےکہ اور اُنہوں نے «رحراح» ”کشادہ برتن“ کا لفظ «الزجاج» ”شیشے کے برتن“ کی جگہ بغیرکسی شک وشبہ کے بیان کیا ہے۔ اما م صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں محمد بن یحییٰ نے ابو نعمان سے اور اُنہوں نے حماس سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ سلیمان بن حارث کی روایت میں ہے: «اُتِیَ بِقَدحِ زُجَاجِ» ”آپ کے پاس شیشے کا پیالہ لایا گیا۔“ اور ابو نعمان کی روایت میں ہے کہ ”شیشے کا برتن لایا گیا۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «رحراح» شیشے کے کھلے برتن کو کہتے ہیں، گہرے کو «رحراح» نہیں کہتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، 144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت تغير في آخر عمره | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن الفضل السدوسي | ثقة حافظ جليل | |
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر أنس بن مالك الأنصاري ← محمد بن يحيى الذهلي | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 124 in Urdu
محمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي