صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
790. (557) باب إباحة الجلوس لبعض القراءة والقيام لبعض فى الركعة الواحدة
ایک ہی رکعت میں کچھ قرأت بیٹھ کر اور کچھ کھڑے ہو کر کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الإِنْسَانُ أَرْبَعِينَ آيَةً"
اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قرأت فرماتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر قیام کرتے (اور تلاوت کرتے) جتنی دیر میں انسان چالیس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے۔ (پھر رکوع کرتے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1244 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1244
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ ایک رکعت میں قراءت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ حصہ بیٹھ کر ادا کرنا جائز ہے، خواہ وہ پہلے قیام کرے، پھر بیٹھے یا پہلے بیٹھ کر نماز شروع کرنے کے بعد کھڑا ہو۔
شافعیہ، مالک، ابوحنیفہ اور اکثر علماء کا یہی موقف ہے۔
البتہ بعض سلف نے اس صورت سے منع کیا ہے لیکن ان کا موقف غلط ہے۔
➋ نوافل میں طولِ قیام مستحب ہے اور طولِ قیام کثرتِ رکعات سے افضل ہے۔ [شرح النووي: 6/11]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ ایک رکعت میں قراءت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ حصہ بیٹھ کر ادا کرنا جائز ہے، خواہ وہ پہلے قیام کرے، پھر بیٹھے یا پہلے بیٹھ کر نماز شروع کرنے کے بعد کھڑا ہو۔
شافعیہ، مالک، ابوحنیفہ اور اکثر علماء کا یہی موقف ہے۔
البتہ بعض سلف نے اس صورت سے منع کیا ہے لیکن ان کا موقف غلط ہے۔
➋ نوافل میں طولِ قیام مستحب ہے اور طولِ قیام کثرتِ رکعات سے افضل ہے۔ [شرح النووي: 6/11]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1244]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1244 in Urdu
أبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق