صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
809. (576) باب ذكر الدليل على أن نهي النبى صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب نهي خاص لا عام،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ صبح کے بعد طلوع شمس تک اور نماز عصر کے بعد غروب شمس تک نماز پڑھنے سے منع کرنا، یہ ایک خاص ممانعت ہے، عام نہیں،
حدیث نمبر: 1278
وَالدَّلِيلُ عَلَى مَا ذَكَرْتُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُجْرٍ حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فِي بَيْتِهَا، قَالَتْ: كَانَ" يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَا"
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو رکعات کے بارے میں پوچھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں عصر کے بعد ادا کیا کرتے تھے۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو رکعات عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر ان دو رکعات کی ادا ئیگی سے مشغول ہوگئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ادا کرنا بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عصر کے بعد ادا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات کو ہمیشہ ادا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی (نفل) نماز ادا کرتے تو اس پر ہمیشگی اور دوام اختیار کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأوقات التى ينهى عن صلاة التطوع فيهن/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 590، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 833، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1278، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1570، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 573، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4468، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22768»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1278 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1278
فوائد:
➊ ظہر کی سنتیں کسی وجہ سے رہ جائیں تو انہیں عصر کے بعد پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ سورج روشن ہو اور پیلاہٹ کا شکار نہ ہو۔
➋ نماز عصر کے بعد دو رکعت نماز کی علت یہ تھی کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی فوت شدہ دو سنتیں ادا کی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو عمل شروع کرتے تھے، اسے دوام بخشتے تھے۔
➊ ظہر کی سنتیں کسی وجہ سے رہ جائیں تو انہیں عصر کے بعد پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ سورج روشن ہو اور پیلاہٹ کا شکار نہ ہو۔
➋ نماز عصر کے بعد دو رکعت نماز کی علت یہ تھی کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی فوت شدہ دو سنتیں ادا کی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو عمل شروع کرتے تھے، اسے دوام بخشتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1278]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1278 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق