الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
825. (592) باب الأمر بالدعاء على المتبايعين فى المسجد أن لا تربح تجارتهما
مسجد میں خرید و فروخت کرنے والوں کو یہ بددعا دینے کا حُکم کا بیان کہ اُن کی تجارت نفع بخش نہ ہو
حدیث نمبر: Q1305
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْبَيْعَ يَنْعَقِدُ وَإِنْ كَانَا عَاصِيَيْنِ بِفِعْلِهِمَا
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی خرید و فروخت منعقد ہوجائے گی اگرچہ وہ اپنے اس عمل کہ وجہ سے گناہ گار ہوں گے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: Q1305]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 1305
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَوْ لَمْ يَكُنِ الْبَيْعُ يَنْعَقِدُ لَمْ يَكُنْ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ" مَعْنًى
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مسجد میں کسی شخص کو کوئی چیز بیچتے ہوئے یا خریدتے ہوئے دیکھو تو یہ بدعا دو «لاَ أَرْبَحَ اللهُ تِجَارَتَكَ» ”اللہ تمہاری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے، اور جب تم اس میں کسی کو گم شدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو تو یہ بد دعا دو «لاَ أَدَّی اللهُ عَلَيْكَ» ”اللہ تمہیں یہ چیز نہ لوٹائے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اگر (مسجد میں تجارت کرنے والوں کی) خرید و فروخت منعقد ہی نہ ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے کچھ معنی باقی نہیں رہتے ”اللہ تمہاری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن عبد الرحمن القرشي ← أبو هريرة الدوسي