الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
831. (598) باب ذكر العلة التى لها أمر بدفن النخامة فى المسجد
اس علت و سبب کا بیان جس کی بنا پر مسجد میں بلغم کا دبانے کا حُکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: Q1311
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ أَمَرَ بِهِ كَيْ لَا يَتَأَذَّى بِذَلِكَ النُّخَامَةِ مُؤْمِنٌ أَنْ يُصِيبَ جِلْدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ فَيُؤْذِيَهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ یہ حُکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ یہ بلغم کسی مومن کے جسم یا کپڑوں کو لگ کر اُسے تکلیف نہ پہنچائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: Q1311]
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 1311
نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ، أَنْ يُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبِهِ فَيُؤْذِيَهُ"
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ناک کی ریزش نکالے تو وہ اپنی ناک کی گندگی کو چھپادے تاکہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑوں کو لگ کر اُسے تکلیف نہ دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري