صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. (101) باب الأمر بتسمية الله- عز وجل- عند تخمير الأواني، والعلة التى من أجلها أمر النبى صلى الله عليه وسلم بتخمير الإناء
برتنوں کو ڈھانپتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حکم ہے اور اس علت کا بیان جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن ڈھانپنے کا حکم دیا ہے
حدیث نمبر: 133
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الصَّنْعَانِيُّ أَبُو هِشَامٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِيهِ عُقَيْلٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا سَأَلْتُ عَنْهُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ وَأَخْبَرَنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " أَوْكُوا الأَسْقِيَةَ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ إِذَا رَقَدْتُمْ بِاللَّيْلِ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَالطَّعَامَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْبَابَ مُغْلَقًا دَخَلَهُ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ السِّقَاءَ مُوكَأً شَرِبَ مِنْهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْبَابَ مُغْلَقًا وَالسِّقَاءَ مُوكَأً لَمْ يَحُلَّ وِكَاءً، وَلَمْ يَفْتَحْ مُغْلَقًا، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ لإِنَائِهِ مَا يُخَمَّرُ بِهِ فَلْيَعْرِضْ عَلَيْهِ عُودًا" . وَإِنَّمَا بَدَأْنَا بِذِكْرِ السِّوَاكِ قَبْلَ صِفَةِ الْوُضُوءِ، لِبَدْءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ قَبْلَ الْوُضُوءِ عِنْدَ دُخُولِ مَنْزِلِهِ
حضرت وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ یہ وہ حدیث یا مسئلہ ہے جو میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور اُنہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، ”جب تم رات کو سونے لگو تو مشکیزوں کے سر بندھن سے باندھ دو اور دروازے اچھی طرح بند کرلو اور کھانے پینے (کے برتنوں) کو ڈھانپ لو کیونکہ شیطان آتا ہے تو اگر دروازہ بند نہ ہو تو وہ داخل ہو جاتا ہے۔ اور اگر مشکیزہ بندھا ہوا نہ پائے تو اس سے پی لیتا ہے۔ اور اگر وہ دروازہ بند پائے اور مشکیزے کو بندھا ہوا پائے تو وہ رسی نہیں کھولتا اور نہ بند (دروازہ) کھولتا ہے۔ اور اگر تم میں سے کسی کو اپنا برتن ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو اُس پر آڑی ترچھی لکڑی ہی رکھ دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، 3316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 133 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 133
فوائد:
ان احادیث میں غروبِ آفتاب سے قبل کچھ آداب ہیں، جن پر عمل کرتے ہوئے انسان بہت سی بیماریوں، بلاؤں اور ایذاؤں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ نیز یہ آداب دنیا و آخرت کی خیر اور سلامتی کا باعث ہیں۔
➊ سرِ شام بسم اللہ پڑھ کر گھر کے دروازے بند کر لیے جائیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شام کے وقت شیاطین روئے زمین پر منتشر ہوتے اور اپنی خباثتوں کی ترویج کرتے ہیں۔ لہذا جس دروازے کو بسم اللہ پڑھ کر بند کیا جائے، شیطان اس دروازے کو کھولنے سے قاصر اور گھر میں داخل ہونے سے باز رہتا ہے، جس سے اہل خانہ شیطانی شرارتوں اور ہلاکت آفرینیوں سے محفوظ رہتے ہیں، جس میں ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
➋ غروبِ آفتاب سے قبل برتن الٹا دیے جائیں، ان پر ڈھکنے رکھ دیے جائیں یا کم از کم چوڑائی میں ان پر لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے اور مشکیزوں کے سر بند باندھ دیے جائیں۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے کئی فوائد ہیں:
➊ ایسا برتن اور مشکیزہ شیطانی دسترس سے محفوظ رہتا ہے۔ چنانچہ شیطان ڈھکے ہوئے برتن کا ڈھکنا نہیں اتار سکتا اور بند مشکیزے کا سر نہیں کھول سکتا۔
➋ ایسے برتن اور مشکیزے اس وبا سے محفوظ رہتے ہیں جو سال میں ایک رات نازل ہوتی ہے اور ہر کھلے برتن اور مشکیزے میں داخل ہو جاتی ہے۔
➌ ایسے برتن نجاستوں اور غلاظتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
➍ ایسے برتن حشرات الارض اور زہریلے کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ بعض اوقات حشرات الارض کھلے برتن میں گر جاتے ہیں اور انسان غفلت میں پانی وغیرہ استعمال کر لیتا ہے پھر وہ اس سے تکلیف اٹھاتا ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 182/13]
➌ ❀ رات کے وقت سونے سے قبل دیے اور لالٹینیں گل کر دی جائیں کیونکہ آگ انسانوں کی دشمن ہے اور چوہا وغیرہ دیے کی بتی کو کھینچ کر پورے گھر کو آگ لگا دیتا ہے اور عہدِ رسالت میں مدینہ میں ایک گھر اس وجہ سے جل بھی گیا تھا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظِ ماتقدم کے طور پر رات کے وقت چراغ بجھانے کا حکم صادر فرمایا تھا۔
➍ ❀ سرِ شام اپنے بچوں اور مویشیوں کو گھروں میں روک لیا جائے اور مغرب اور عشاء کے درمیان شروع رات کا اندھیرا ختم نہ ہونے تک انہیں باہر نہ آنے دیا جائے۔ کیونکہ یہ شیاطین کے پھیلنے کا وقت ہوتا ہے اور وہ بچوں اور مویشیوں کو روحانی اور جسمانی نقصان پہنچا سکتے ہیں لہذا انسان اس نبوی نسخہ پر عمل کرتے ہوئے شیطانی تدبیروں اور ان کے حملوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
ان احادیث میں غروبِ آفتاب سے قبل کچھ آداب ہیں، جن پر عمل کرتے ہوئے انسان بہت سی بیماریوں، بلاؤں اور ایذاؤں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ نیز یہ آداب دنیا و آخرت کی خیر اور سلامتی کا باعث ہیں۔
➊ سرِ شام بسم اللہ پڑھ کر گھر کے دروازے بند کر لیے جائیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شام کے وقت شیاطین روئے زمین پر منتشر ہوتے اور اپنی خباثتوں کی ترویج کرتے ہیں۔ لہذا جس دروازے کو بسم اللہ پڑھ کر بند کیا جائے، شیطان اس دروازے کو کھولنے سے قاصر اور گھر میں داخل ہونے سے باز رہتا ہے، جس سے اہل خانہ شیطانی شرارتوں اور ہلاکت آفرینیوں سے محفوظ رہتے ہیں، جس میں ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
➋ غروبِ آفتاب سے قبل برتن الٹا دیے جائیں، ان پر ڈھکنے رکھ دیے جائیں یا کم از کم چوڑائی میں ان پر لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے اور مشکیزوں کے سر بند باندھ دیے جائیں۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے کئی فوائد ہیں:
➊ ایسا برتن اور مشکیزہ شیطانی دسترس سے محفوظ رہتا ہے۔ چنانچہ شیطان ڈھکے ہوئے برتن کا ڈھکنا نہیں اتار سکتا اور بند مشکیزے کا سر نہیں کھول سکتا۔
➋ ایسے برتن اور مشکیزے اس وبا سے محفوظ رہتے ہیں جو سال میں ایک رات نازل ہوتی ہے اور ہر کھلے برتن اور مشکیزے میں داخل ہو جاتی ہے۔
➌ ایسے برتن نجاستوں اور غلاظتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
➍ ایسے برتن حشرات الارض اور زہریلے کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ بعض اوقات حشرات الارض کھلے برتن میں گر جاتے ہیں اور انسان غفلت میں پانی وغیرہ استعمال کر لیتا ہے پھر وہ اس سے تکلیف اٹھاتا ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 182/13]
➌ ❀ رات کے وقت سونے سے قبل دیے اور لالٹینیں گل کر دی جائیں کیونکہ آگ انسانوں کی دشمن ہے اور چوہا وغیرہ دیے کی بتی کو کھینچ کر پورے گھر کو آگ لگا دیتا ہے اور عہدِ رسالت میں مدینہ میں ایک گھر اس وجہ سے جل بھی گیا تھا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفظِ ماتقدم کے طور پر رات کے وقت چراغ بجھانے کا حکم صادر فرمایا تھا۔
➍ ❀ سرِ شام اپنے بچوں اور مویشیوں کو گھروں میں روک لیا جائے اور مغرب اور عشاء کے درمیان شروع رات کا اندھیرا ختم نہ ہونے تک انہیں باہر نہ آنے دیا جائے۔ کیونکہ یہ شیاطین کے پھیلنے کا وقت ہوتا ہے اور وہ بچوں اور مویشیوں کو روحانی اور جسمانی نقصان پہنچا سکتے ہیں لہذا انسان اس نبوی نسخہ پر عمل کرتے ہوئے شیطانی تدبیروں اور ان کے حملوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 133]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 133 in Urdu
وهب بن منبه الأبناوي ← جابر بن عبد الله الأنصاري