صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
855. (622) باب ذكر البيان أن النبى صلى الله عليه وسلم صلى هذه الصلاة بكل طائفة ركعة ولم يقض الطائفتان شيئا،
اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز (خوف) ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائی تھی اور دونوں گروہوں نے (اس کے بعد) نماز کی تکمیل نہیں کی تھی، جبکہ دشمن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ شریف کے درمیان تھا
حدیث نمبر: 1349
نَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت بیان کرتے ہیں ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 943، 4133، 4535، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 839، ومالك فى (الموطأ) برقم: 634، وابن الجارود فى "المنتقى"، 259، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 980، 981، 1349، 1354، 1355، 1366، 1367، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 564، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1258، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2263، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1775، 1776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6268»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سماك بن الوليد الحنفي، أبو زميل سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن عمر العدوي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن الوليد الحنفي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد روح بن عبادة القيسي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن عبد الله السدوسي، أبو بكر أحمد بن عبد الله السدوسي ← روح بن عبادة القيسي | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1349 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1349
فوائد:
➊ نماز خوف کی مشروعیت پر علما کا اتفاق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ ”اور جب آپ ان میں موجود ہوں ان کے لیے نماز کھڑی کریں تو لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، پھر جب وہ سجدہ کریں تو وہ تمہارے پیچھے ہو جائیں اور دوسری جماعت جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور وہ اپنے بچاؤ کا سامان، اور اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے چاہتے ہیں کہ کاش! تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غفلت کرو تو وہ تم پر یکبارگی حملہ کر دیں۔ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف لاحق ہو یا تم بیمار ہو تو اس بات میں گناہ نہیں کہ تم اپنے ہتھیار رکھ دو اور اپنے بچاؤ کا سامان کرو، بلاشبہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ [سورة النساء: 102]
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: نماز خوف کی کیفیت کے بارے میں چھ یا سات احادیث منقول ہیں، ان میں سے انسان جس بھی طریقے پر عمل کر لے جائز ہے۔ [فقه السنة: 263/1]
➋ نماز خوف کا ایک طریقہ احادیث الباب میں منقول ہے کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ایک رکعت نماز پڑھائے اور ہر گروہ امام کی اقتدا میں ایک ایک رکعت ادا کرے۔ یوں امام کی دو رکعت اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہو گی۔ نماز خوف کا یہ طریقہ بھی مشروع ہے۔
➊ نماز خوف کی مشروعیت پر علما کا اتفاق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ ”اور جب آپ ان میں موجود ہوں ان کے لیے نماز کھڑی کریں تو لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، پھر جب وہ سجدہ کریں تو وہ تمہارے پیچھے ہو جائیں اور دوسری جماعت جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور وہ اپنے بچاؤ کا سامان، اور اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے چاہتے ہیں کہ کاش! تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غفلت کرو تو وہ تم پر یکبارگی حملہ کر دیں۔ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف لاحق ہو یا تم بیمار ہو تو اس بات میں گناہ نہیں کہ تم اپنے ہتھیار رکھ دو اور اپنے بچاؤ کا سامان کرو، بلاشبہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ [سورة النساء: 102]
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: نماز خوف کی کیفیت کے بارے میں چھ یا سات احادیث منقول ہیں، ان میں سے انسان جس بھی طریقے پر عمل کر لے جائز ہے۔ [فقه السنة: 263/1]
➋ نماز خوف کا ایک طریقہ احادیث الباب میں منقول ہے کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ایک رکعت نماز پڑھائے اور ہر گروہ امام کی اقتدا میں ایک ایک رکعت ادا کرے۔ یوں امام کی دو رکعت اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہو گی۔ نماز خوف کا یہ طریقہ بھی مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1349]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1349 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن عمر العدوي