صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
872. (639) بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الدُّعَاءِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ فِي الْكُسُوفِ.
گرہن کے وقت دعا، تسبیح، تکبیر اور تحمید پڑھتے وقت ہاتھ اُٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 1373
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهَا وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْتُ وَهُوَ قَائِمٌ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَحْمَدُ، وَيَدْعُو حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ"
سیدنا عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنے تیروں کے ساتھ تیراندازی کی مشق کررہا تھا، اچانک سورج کو گرہن لگ گیا میں نے تیر پھینک دیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کھڑے ہوئے تھے، اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے، تسبیح، تکبیر تحمید اور دعا کر رہے تھے حتیٰ کہ گرہن دور ہوگیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھ کر دو رکعات پڑھائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1373]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 913، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2848، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1232، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1459، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1195، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6424، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20948»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1373 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1373
فوائد:
➊ چاند اور سورج گہن کی صورت میں اپنے کام کاج چھوڑ کر نمازِ کسوف میں شامل ہو جانا چاہیے۔
➋ نمازِ کسوف میں ہاتھ اٹھا کر تکبیر و تہلیل، ذکر و اذکار اور استغفار کرنا مسنون اور مطلوب چیزیں ہیں۔
➌ یہ سلسلہ گہن چھٹنے تک جاری رکھنا مسنون ہے۔
➊ چاند اور سورج گہن کی صورت میں اپنے کام کاج چھوڑ کر نمازِ کسوف میں شامل ہو جانا چاہیے۔
➋ نمازِ کسوف میں ہاتھ اٹھا کر تکبیر و تہلیل، ذکر و اذکار اور استغفار کرنا مسنون اور مطلوب چیزیں ہیں۔
➌ یہ سلسلہ گہن چھٹنے تک جاری رکھنا مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1373]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1373 in Urdu
حيان بن عمير الجريري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي