🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
877. (644) باب الجهر بالقراءة من صلاة كسوف الشمس
سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قراءت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ صَدَقَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً يَجْهَرُ فِيهَا، ثُمَّ رَكَعَ عَلَى نَحْوِ مَا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ رَكَعَ عَلَى نَحْوِ مَا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الأُولَى، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ" قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ مَاتَ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَانَ هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قراءت کی مقدار کے برابر (لمبا) رکوع کیا، پھر (رکوع سے سر مبارک) اُٹھایا تو (پھر اپنی پہلی قراءت جتنی قراءت کی) پھر اپنی قراءت کی مقدار کے برابر رکو ع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھایا اور سجدے کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لئے اُٹھے تو پھر اسی طرح (قراءت اور رکوع) کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا۔ پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا لہٰذ جب گرہن لگے تو نماز کی طرف لپکو (تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری یہ مشکل حل کرے) روای کہتے ہیں کہ اُس دن (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ سورج گرہن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن الحسين الواسطي، أبو محمد، أبو الحسن، أبو المؤمل
Newسفيان بن الحسين الواسطي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق يخطئ
👤←👥إبراهيم بن صدقة البصري
Newإبراهيم بن صدقة البصري ← سفيان بن الحسين الواسطي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن يعقوب الجزري، أبو العباس
Newالفضل بن يعقوب الجزري ← إبراهيم بن صدقة البصري
صدوق حسن الحديث