🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
898. (665) بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ لِلدُّعَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ لِلِاسْتِسْقَاءِ، وَتَحْوِيلِ الْأَرْدِيَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
نماز استسقاء سے پہلے دعا کے لئے قبلہ رُخ ہونے اور نماز سے پہلے چادروں کو اُلٹانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ" . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، قُلْتُ سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرَفَعَ يَدَيْهِ قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کی دعا کے علاوہ اور کسی دعا میں اپنے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ثابت سے پوچھا، کیا آپ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا، «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَٰه» ‏‏‏‏ (بڑی تعجب والی بات ہے۔) میں نے پوچھا، کیا آپ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا، «‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَٰه» ‏‏‏‏ (بڑی تعجب خیز بات ہے)۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب معمر کی امام زہری سے روایت میں یہ الفاظ پہلے بھی لکھوا چکا ہوں کہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، 1412، 1417، 1423، 1788، 1789، 1791، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1411 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1411
فوائد:
➊ اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سوا کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، جبکہ معاملہ ایسا نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی جگہوں میں دیگر ادعیہ میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ اور اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہاتھ اٹھانے میں جتنا مبالغہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی دعا میں کرتے تھے، اتنے زیادہ ہاتھ کسی اور دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔
➋ استسقاء کے لیے دعا اور چادروں کو الٹنا نمازِ استسقاء سے قبل مشروع ہے اور نمازِ استسقاء بارش طلبی کی دعا کے بعد ادا کی جائے گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1411]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1411 in Urdu