صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
920. (687) بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ الْعِيدَيْنِ وَبَعْدَهَا اقْتِدَاءً بِالنَّبِيِّ وَاسْتِنَانًا بِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور اتباع کرتے ہوئے عیدگاہ میں نماز عیدین سے پہلے اور بعد میں نماز نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1436
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى وَأَكْبَرُ عِلْمِي، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خِرْصَهَا وَصَخَابِهَا"
جناب سعید بن جبیر رحمه الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحیٰ والے دن باہر تشریف لے گئے۔ میرا غالب خیال یہ ہے کہ اُنہوں نے عید الفطر بیان کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں صدقہ کرنے کا حُکم دیا۔ تو عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور ہاراُتار کر (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو) دینے شروع کر دیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 98، 863، 960، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 884، وابن الجارود فى "المنتقى"، 285، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1436، 1437، 1458، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1568، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1142، والترمذي فى (جامعه) برقم: 537، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1273، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6250، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1927»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1436 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1436
فوائد:
➊ نماز عید سے قبل مطلق نوافل کا اہتمام کرنا مکروہ ہے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نوافل کا اہتمام مکروہ ہے۔
➋ البتہ نماز عید کے بعد گھر پر دو نفل ادا کرنا مسنون ہے۔
❀ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«كَانَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم لَا يُصَلِّى قَبْلَ الْعِيْدِ شَيْئًا فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے قبل کوئی نماز نہ پڑھتے تھے اور جب نماز عید کے بعد اپنے گھر لوٹتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجہ: 1293، مسند أحمد: 28/3، المستدرك للحاكم: 297/1، حسن]
➊ نماز عید سے قبل مطلق نوافل کا اہتمام کرنا مکروہ ہے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نوافل کا اہتمام مکروہ ہے۔
➋ البتہ نماز عید کے بعد گھر پر دو نفل ادا کرنا مسنون ہے۔
❀ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«كَانَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم لَا يُصَلِّى قَبْلَ الْعِيْدِ شَيْئًا فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے قبل کوئی نماز نہ پڑھتے تھے اور جب نماز عید کے بعد اپنے گھر لوٹتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجہ: 1293، مسند أحمد: 28/3، المستدرك للحاكم: 297/1، حسن]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1436]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1436 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي