صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
923. (690) باب ذكر الدليل على ضد قول من زعم أنه يوالي بين القراءتين فى صلاة العيدين
اس شخص کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتا ہے کہ نماز عیدین میں (دونوں رکعتوں کی) کی قراءتوں کو لگاتار اور مسلسل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 1439
نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ"
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں عیدوں کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1439]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1438، 1439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 536، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6258، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1731»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1439 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1439
فوائد:
➊ نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے سوا قراءت سے قبل سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قراءت سے قبل تکبیرِ قیام کے علاوہ پانچ تکبیرات مشروع و مستحب ہیں۔
➋ قراءت سے قبل دعائے استفتاح سے پہلے اور بعد میں تکبیرات کا اہتمام مسنون ہے۔
➊ نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے سوا قراءت سے قبل سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قراءت سے قبل تکبیرِ قیام کے علاوہ پانچ تکبیرات مشروع و مستحب ہیں۔
➋ قراءت سے قبل دعائے استفتاح سے پہلے اور بعد میں تکبیرات کا اہتمام مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1439]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1439 in Urdu
عبد الله بن عمرو المزني ← عمرو بن عوف المزني