🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
924. (691) بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین میں قراءت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1441
وَفِي خَبَرِ النُّعْمَانِ بْنِ بِشِيرٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ بِـ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ" وَهَذَا مِنَ اخْتِلافِ الْمُبَاحِ
سیدنا نعمان بن بشیر اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما کی روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز عیدین میں) سورۃ الأعلى «‏‏‏‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» ‏‏‏‏ اور سورة الغاشية ( «‏‏‏‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» ‏‏‏‏ کی قراءت کی۔ اور یہ (مختلف قراءت) جائز اختلاف کی قسم سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 878، ومالك فى (الموطأ) برقم: 371، وابن الجارود فى "المنتقى"، 293، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1441، 1463، 1845، 1846، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2807، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1422، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1122، 1123، والترمذي فى (جامعه) برقم: 533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1119، 1281، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5804، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18672، والحميدي فى (مسنده) برقم: 949»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1441 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1441
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ القمر یا سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی قراءت مستحب ہے، البتہ نماز عید میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کے کثرتِ اہتمام کی روایات اکثر ہیں۔
نیز ان سورتوں کے علاوہ اور سورتوں کی تلاوت کرنا بھی جائز ہے، البتہ مذکورہ سورتوں کی تلاوت افضل ہے۔
➋ خطبہ عید زمین پر لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہو کر ارشاد کرنا مسنون ہے۔
«فَلَمَّا فَرَغَ نَبِي نَزَلَ فَأتَي النِّسَاءَ» سے یہ استدلال کہ آپ منبر سے نیچے اتر کر عورتوں کے پاس تشریف لے گئے تھے، درست نہیں بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بہ نسبت کچھ بلند جگہ پر تھے، منبر کا استعمال کسی بھی حدیث میں وارد نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1441]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1441 in Urdu