صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
927. (694) باب الخطبة على المنبر فى العيدين
عیدین میں منبر پر خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1444
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلالٍ، وَبِلالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً"، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةُ الْفِطْرِ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَهَا، وَيُلْقِينَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر والے دن کھڑے ہوئے تو آپ نے نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتداء کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو (منبرسے) نیچے اُترے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اس حال میں وعظ ونصیحت فرمائی کہ آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا تھا، عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا ء سے پو چھا کیا وہ صدقہ فطر ادا کررہی تھیں؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ وہ اُس وقت عام صدقہ کر رہی تھیں۔ عورتیں اپنی پازیب اور کنگن وغیرہ (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی چادر میں) ڈال رہیں تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 958، 960، 961، 978، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 885، 886، وابن الجارود فى "المنتقى"، 286، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1444، 1459، 1460، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1561، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1141، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6250، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1724، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2206»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1444 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1444
فوائد:
➊ خطبہ عید کے لیے منبر کا اہتمام کرنا بدعت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدگاہ میں منبر لے جانے اور منبر پر خطبہ ارشاد کرنے کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔
بلکہ عیدگاہ میں منبر کا سب سے پہلے استعمال مروان بن حکم نے کیا تھا۔ [دیکھیے حدیث: 1449]
➊ خطبہ عید کے لیے منبر کا اہتمام کرنا بدعت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدگاہ میں منبر لے جانے اور منبر پر خطبہ ارشاد کرنے کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔
بلکہ عیدگاہ میں منبر کا سب سے پہلے استعمال مروان بن حکم نے کیا تھا۔ [دیکھیے حدیث: 1449]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1444]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1444 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري