علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
959. (8) باب أمر العميان بشهود صلاة الجماعة،
نابینا آدمیوں کو جماعت میں حاضر ہونے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1480
ناهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، ناهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي شَيْخٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ فَلا يُلازِمُنِي فَهَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ:" تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكَ مِنْ رُخْصَةٍ"
جناب ابو رزین سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، بیشک میں ایک نابینا بوڑھا شخص ہوں، میرا گھر بھی دُور ہے۔ اور میرا ایک رہنما ہے جو مستقل میرے پاس نہیں ہوتا، تو کیا میرے لئے (نماز باجماعت میں حاضر نہ ہونے کی) رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا ک جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیرے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1479، 1480، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 909، وأبو داود فى (سننه) برقم: 552، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 792، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5026، 5027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1430، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15730»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1480 in Urdu
مسعود بن مالك الأسدي ← عبد الله بن أم مكتوم الأعمى