علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
959. (8) باب أمر العميان بشهود صلاة الجماعة،
نابینا آدمیوں کو جماعت میں حاضر ہونے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q1479
وَإِنْ كَانَتْ مَنَازِلُهُمْ نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، لَا يُطَاوِعُهُمْ قَائِدُوهُمُ بِإِتْيَانِهِمْ إِيَّاهُمُ الْمَسَاجِدَ، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شُهُودَ الْجَمَاعَةِ فَرِيضَةٌ لَا فَضِيلَةٌ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ: لَا رُخْصَةَ لِلْمَرْءِ فِي تَرْكِ الْفَضِيلَةِ
حدیث نمبر: 1479
نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آتِيَ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ"، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِي، وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ، قَالَ:" أَتَسْمَعُ الإِقَامَةَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْضُرْهَا"، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ، فِيهَا اخْتِصَارٌ أَرَادَ عِلْمِي وَلَيْسَ قَائِدٌ يُلازِمُنِي كَخَبَرِ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے وقت لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اس نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے پاس جاؤں اور اُن کے گھروں کو جلا دوں۔ تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ کو یقیناً میری تکلیف اور عذر کا علم ہے اور میرا کوئی راہنما بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اذان سنتے ہو؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس میں حاضر ہوا کرو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت نہ دی۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرا کوئی راہنما نہیں ہے۔ اس لفظ میں اختصار ہے۔ میرے علم کے مطابق ان کا ارادہ یہ تھا کہ میرا مستقل راہنما کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ ابو رزین کی روایت میں ہے (جو درج ذیل ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1479، 1480، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 909، وأبو داود فى (سننه) برقم: 552، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 792، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5026، 5027، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1430، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15730»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1479 in Urdu
عبد الله بن شداد الليثي ← عبد الله بن أم مكتوم الأعمى