صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
961. (10) باب تخوف النفاق على تارك شهود الجماعة
نماز باجماعت کے تارک شخص پر نفاق کے ڈر کا بیان
حدیث نمبر: 1483
نَا نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلا مُنَافِقٌ بَيِّنٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ نماز باجماعت سے پیچھے صرف واضح اور کھلے نفاق والا شخص ہی رہتا تھا اور ہم نے خود کو اس حال میں بھی دیکھا کہ ایک (بیمار) شخص کو دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا حتّیٰ کہ اُسے صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 654، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 777، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5030، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3693»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود | ثقة | |
👤←👥علي بن الأقمر الوادعي، أبو الوازع علي بن الأقمر الوادعي ← عوف بن مالك الجشمي | ثقة | |
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ← علي بن الأقمر الوادعي | صدوق اختلط قبل موته وضابطه أن من سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب سلم بن جنادة السوائي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1483 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1483
فوائد:
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ جن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جلانے کا ارادہ کیا تھا، وہ منافقین تھے۔
➋ نماز باجماعت میں شامل نہ ہونے کو معمول بنا لینا علاماتِ نفاق میں سے ہے اور ایسے شخص کو فکر کرنی چاہیے کہ اس میں نفاق کا مرض جڑ نہ پکڑ چکا ہو۔
➊ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ جن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جلانے کا ارادہ کیا تھا، وہ منافقین تھے۔
➋ نماز باجماعت میں شامل نہ ہونے کو معمول بنا لینا علاماتِ نفاق میں سے ہے اور ایسے شخص کو فکر کرنی چاہیے کہ اس میں نفاق کا مرض جڑ نہ پکڑ چکا ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1483]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1483 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود