صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
962. (11) بَابُ ذِكْرِ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَتَخَوُّفِ النِّفَاقِ عَلَى تَارِكِ شُهُودِ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَةِ
منافقین پر سب سے بھاری نماز کا بیان، اور نماز عشاء اور نماز صبح باجماعت نہ پڑھنے والے نفاق کے خدشے کا بیان
حدیث نمبر: 1485
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ:" كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الإِنْسَانَ فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَالصُّبْحِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ"
سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص کو نماز عشاءاور فجر میں موجود نہ پاتے توہم اس کے بارے میں بُرا گمان کرتے (کہ وہ منافق ہوگیا ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1485]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1485، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2099، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 769، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5032، والبزار فى (مسنده) برقم: 5847، 5848، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3372، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13085»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1485 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1485
فوائد:
◄ اس حدیث کی وضاحت حدیث 1283 میں بیان ہوئی ہے کہ فجر و عشاء کی نماز سے غائب شخص کے بارے میں صحابہ کرام یہ بدظنی رکھتے تھے کہ وہ منافق ہو گیا ہے۔
لہٰذا تہمتِ نفاق سے بچنے کے لیے دیگر نمازوں کی طرح فجر و عشاء کی باجماعت نمازوں کا اہتمام از حد ضروری ہے۔
◄ اس حدیث کی وضاحت حدیث 1283 میں بیان ہوئی ہے کہ فجر و عشاء کی نماز سے غائب شخص کے بارے میں صحابہ کرام یہ بدظنی رکھتے تھے کہ وہ منافق ہو گیا ہے۔
لہٰذا تہمتِ نفاق سے بچنے کے لیے دیگر نمازوں کی طرح فجر و عشاء کی باجماعت نمازوں کا اہتمام از حد ضروری ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1485]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1485 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي