صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
983. (32) بَابُ ذِكْرِ اسْتِحْقَاقِ الْإِمَامَةِ بِكِبَرِ السِّنِّ إِذَا اسْتَوَوْا فِي الْقِرَاءَةِ وَالسُّنَّةِ وَالْهِجْرَةِ.
جب سب لوگ قراءت قرآن، سنّتِ نبوی کی معرفت اور ہجرت کرنے میں برابر ہوں تو بڑی عمر والا شخص امامت کا مستحق ہو گا
حدیث نمبر: 1510
أنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ . قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الإِقْفَالَ، قَالَ لَنَا: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". زَادَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (دینی مسائل سیکھنے کے لئے) حاضر ہوئے، پھر جب ہم نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہنا، پھر اقامت کہنا پھر تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کرائے۔“ الدورقی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوقلابہ سے پوچھا: قراءت قرآن میں مہارت کو معیار کیوں نہیں بنایا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں صحابی قراءت کے لحاظ سے برابر تھے۔ (اس لئے بڑی عمر والا امامت کا حق دار ٹھہرایا گیا)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 628، 630، 631، 658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 674، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 395، 396، 397، 398، 586، 1510، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1658، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 205، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 979، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1838، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15838»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1510 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1510
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر قرأت میں کئی افراد برابر ہوں تو بڑی عمر کا شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر قرأت میں کئی افراد برابر ہوں تو بڑی عمر کا شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1510]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1510 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي