صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
984. (33) بَابُ إِمَامَةِ الْمَوْلَى الْقُرَشِيِّ إِذَا كَانَ الْمَوْلَى أَكْثَرَ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ.
جب آزاد کردہ غلام کو زیادہ قرآن مجید یاد ہو تو وہ قریشی شخص کو امامت کرائے گا۔
حدیث نمبر: Q1511
خَبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَوْلَى إِذَا كَانَ أَقْرَأَ مِنَ الْقُرَشِيِّ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ.
اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث: ”لوگوں کی امامت وہ کرائے گا جو ان میں قرآن مجید کا بڑا قاری ہو“ اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد کردہ غلام جب قریشی شخص سے قرآن مجید کا زیادہ ماہر اور قاری ہو تو امامت کا زیادہ حق دار ہے [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: Q1511]
حدیث نمبر: 1511
أنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ، لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، نَزَلُوا إِلَى جَنْبِ قُبَاءَ، حَضَرَتِ الصَّلاةُ، أَمَّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الأَسْدِ" , هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ قباء کی ایک جانب فروکش ہوئے۔ نماز کا وقت ہوا تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ نے انہیں امامت کرائی۔ کیونکہ انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ اُن مہاجرین میں سیدنا عمر بن خطاب اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہما جیسے (جلیل القدر) صحابہ بھی موجود تھے۔ یہ حدیث احمد بن سنان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 692، وابن الجارود فى "المنتقى"، 337، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1511، وأبو داود فى (سننه) برقم: 588، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5203، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3480، والطبراني فى(الكبير) برقم: 6372»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1511 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1511
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غلام اگر قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہو اور باقی لوگوں سے قرآن کا بڑا حافظ ہو تو وہ امامت کا زیادہ مستحق ہے۔
➋ جمہور علماء غلام کی امامت کی مشروعیت کے قائل ہیں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ غلام اگر قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہو اور باقی لوگوں سے قرآن کا بڑا حافظ ہو تو وہ امامت کا زیادہ مستحق ہے۔
➋ جمہور علماء غلام کی امامت کی مشروعیت کے قائل ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1511]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1511 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي