صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
990. (39) بَابُ إِمَامَةِ الْمَرْءِ السُّلْطَانَ بِأَمْرِهِ،
آدمی کا امیر و حکمران کے حُکم سے امامت کرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1517Q
وَاسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ رَجُلًا مِنَ الرَّعِيَّةِ إِذَا غَابَ عَنْ حَضْرَةِ الْمَسْجِدِ الَّذِي يَؤُمُّ النَّاسَ فِيهِ فَتَكُونُ الْإِمَامَةُ بِأَمْرِهِ
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِبِلالٍ:" يَا بِلالُ، إِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَذَكَرَ فِي الْخَبَرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ، فَقَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ:" امْضِ فِي صَلاتِكَ"
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے لوگوں کا باہمی جھگڑا ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اُن کی صلح کرانے کے لئے اُن کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! جب نماز عصر کا وقت ہو جائے اور میں واپس نہ آؤں تو تم ابوبکر سے عرض کرنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔“ پھر مکمل حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران میں ہی) تشریف لے آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 684، 1201، 1204، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 421، ومالك فى (الموطأ) برقم: 565، وابن الجارود فى "المنتقى"، 234، 341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 853، 854، 1517، 1574، 1623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2260، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4485، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3380،، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23264، والحميدي فى (مسنده) برقم: 956»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← سلمة بن دينار الأعرج | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1517 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1517
فوائد:
➊ سلطان کی اجازت سے حاکم سمیت دیگر مقتدیوں کی امامت کرانا جائز ہے۔
➋ امام مسجد اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے۔ نیز لوگوں میں صلح کرانے سے اگر کچھ نماز چھوٹ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
➊ سلطان کی اجازت سے حاکم سمیت دیگر مقتدیوں کی امامت کرانا جائز ہے۔
➋ امام مسجد اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے۔ نیز لوگوں میں صلح کرانے سے اگر کچھ نماز چھوٹ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1517]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1517 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي