صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
989. (38) باب الرخصة فى صلاة الإمام الأعظم خلف من أم الناس من رعيته، وإن كان الإمام من الرعية يؤم الناس بغير إذن الإمام الأعظم
امامِ اعظم (حکمران، امیر، بادشاہ) کا اپنی رعایا میں سے کسی شخص کی امامت میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَلا تَؤُمَّنَّ رَجُلا فِي سُلْطَانِهِ وَلا فِي أَهْلِهِ، وَلا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ" , أَوْ قَالَ:" يَأْذَنُ لَكَ"
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم کسی شخص کو اس کی سلطنت و حکومت اور اس کے گھر میں امامت نہ کراؤ اور نہ اُس کی خصوصی مسند پر بیٹھو مگر اُس کی اجازت کے ساتھ۔ یا فرمایا: ”الّا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
أوس بن ضمعج النخعي ← أبو مسعود الأنصاري