صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
999. (48) بَابُ ذِكْرِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَئِمَّةِ بِالرَّشَادِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اماموں کے لئے رشد و ہدایت کی دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1532
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، وَقَالَ: قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الأَعْمَشُ أَحْفَظُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِثْلَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَفَا عَنِ الْمَؤَذِّن» ”اللہ تعالیٰ مؤذن کو معاف فرمائے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اعمش راوی، محمد بن ابی صالح جیسے دو سو راویوں سے بڑھ کر حافظے اور اتقان والے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1532، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1671، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2030، 2057، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25001، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4562، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2195»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نافع بن سليمان القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة حيوة بن شريح التجيبي ← نافع بن سليمان القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← حيوة بن شريح التجيبي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله أحمد بن عبد الرحمن القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي | ضعيف الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1532 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1532
فوائد:
➊ امام کے ضامن ہونے سے مراد ہے کہ امام مقتدیوں کی نماز مکمل کرانے کا ذمہ دار ہے۔ ضمان کا معنی یہاں نقصان پورا کرنا یا اچھی طرح ادا کرنا نہیں، بلکہ یہاں مراد حفاظت و نگرانی ہے۔
◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل عرب ضامن کا معنی نگران کرتے ہیں اور ضمان سے مراد نگرانی ہے۔ سو امام اس لحاظ سے ضامن ہے کہ وہ مقتدیوں کی نماز اور تعدادِ رکعات کا نگران ہے۔
➋ مؤذن امین ہے۔
◈ اس بارے میں حافظ ابن اثیر رحمہ اللہ نے ”النہایہ“ میں لکھا ہے کہ قوم کا امین وہ شخص ہے جس پر لوگ اعتماد کرتے ہیں اور جسے امین و محافظ مقرر کرتے ہیں۔ لہٰذا یہاں معنی یہ ہو گا کہ مؤذن لوگوں کی نماز اور روزے کا امین و محافظ ہے۔
◈ علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مؤذن روزوں اور نماز کے اوقات کا امین و محافظ ہے کہ لوگ نماز، روزہ اور دیگر موقوتہ وظائف کے لیے اس کی آواز پر اعتماد کرتے ہیں۔ [عون المعبود: 2/40]
➌ ان احادیث سے اذان کی فضیلت پر اور مؤذن کے امام سے افضل ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، کیونکہ اس حدیث کی رو سے امین ضامن سے فائق تر ہے۔ اور امام مؤذن سے افضل ہے، اس کی تاکید میں یہ قول ہے کہ امامت افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین اور کبار علماء نے فریضہ امامت انجام دیا ہے، اذان کی ڈیوٹی انجام نہیں دی۔ [نیل الأوطار: 2/299]
➊ امام کے ضامن ہونے سے مراد ہے کہ امام مقتدیوں کی نماز مکمل کرانے کا ذمہ دار ہے۔ ضمان کا معنی یہاں نقصان پورا کرنا یا اچھی طرح ادا کرنا نہیں، بلکہ یہاں مراد حفاظت و نگرانی ہے۔
◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل عرب ضامن کا معنی نگران کرتے ہیں اور ضمان سے مراد نگرانی ہے۔ سو امام اس لحاظ سے ضامن ہے کہ وہ مقتدیوں کی نماز اور تعدادِ رکعات کا نگران ہے۔
➋ مؤذن امین ہے۔
◈ اس بارے میں حافظ ابن اثیر رحمہ اللہ نے ”النہایہ“ میں لکھا ہے کہ قوم کا امین وہ شخص ہے جس پر لوگ اعتماد کرتے ہیں اور جسے امین و محافظ مقرر کرتے ہیں۔ لہٰذا یہاں معنی یہ ہو گا کہ مؤذن لوگوں کی نماز اور روزے کا امین و محافظ ہے۔
◈ علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مؤذن روزوں اور نماز کے اوقات کا امین و محافظ ہے کہ لوگ نماز، روزہ اور دیگر موقوتہ وظائف کے لیے اس کی آواز پر اعتماد کرتے ہیں۔ [عون المعبود: 2/40]
➌ ان احادیث سے اذان کی فضیلت پر اور مؤذن کے امام سے افضل ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، کیونکہ اس حدیث کی رو سے امین ضامن سے فائق تر ہے۔ اور امام مؤذن سے افضل ہے، اس کی تاکید میں یہ قول ہے کہ امامت افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین اور کبار علماء نے فریضہ امامت انجام دیا ہے، اذان کی ڈیوٹی انجام نہیں دی۔ [نیل الأوطار: 2/299]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1532]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1532 in Urdu
حيوة بن شريح التجيبي ← نافع بن سليمان القرشي