صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. ( 120) باب استحباب مسح الرأس باليدين جميعا ليكون أوعب لمسح جميع الرأس، وصفة المسح، والبدء بمقدم الرأس قبل المؤخر فى المسح.
دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کرنا مستحب ہے تاکہ سارے سر کا مسح ہوجائے، اور مسح کی کیفیت کا بیان، اور مسح پچھلی جاب سے پہلے پیشانی سے شروع کیا جائے گا
حدیث نمبر: 156
نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَبَدَأَ بِالْمُقَدَّمِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ"
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ مبارک تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ دوبارہ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور (مسح کرنا) پیشانی سے شروع کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، 192، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47،ابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 119، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694، والحميدي فى (مسنده) برقم: 421»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 156 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 156
فوائد:
➊ ان احادیث میں سر کے مسح کا مسنون طریقہ بیان ہوا ہے کہ سر کا مسح کرتے وقت دونوں ہاتھ ملا کر سر کے اگلے حصے سے پھیرتے ہوئے گدی تک لائے جائیں۔
➋ پھر وہاں سے ہاتھوں کو گھماتے ہوئے سر کے اگلے حصے تک لایا جائے۔
➌ سر کے مسح کا یہ مسنون و مستحب طریقہ ہے، بشرطیکہ سر پر پگڑی نہ ہو۔
➍ پگڑی کی صورت میں محض پگڑی کا مسح اور پیشانی کے بالوں سمیت پگڑی کا مسح دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➊ ان احادیث میں سر کے مسح کا مسنون طریقہ بیان ہوا ہے کہ سر کا مسح کرتے وقت دونوں ہاتھ ملا کر سر کے اگلے حصے سے پھیرتے ہوئے گدی تک لائے جائیں۔
➋ پھر وہاں سے ہاتھوں کو گھماتے ہوئے سر کے اگلے حصے تک لایا جائے۔
➌ سر کے مسح کا یہ مسنون و مستحب طریقہ ہے، بشرطیکہ سر پر پگڑی نہ ہو۔
➍ پگڑی کی صورت میں محض پگڑی کا مسح اور پیشانی کے بالوں سمیت پگڑی کا مسح دونوں صورتیں جائز ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 156]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 156 in Urdu
يحيى بن عمارة الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري