صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. ( 122) بَابُ مَسْحِ جَمِيعِ الرَّأْسِ فِي الْوُضُوءِ
وضو میں اپنے تمام سر کا مسح کرنا
حدیث نمبر: Q157
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا أَوْ جَمِيعًا.
امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عبد خیر کی روایت میں ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا حتیٰ کہ وہ پانی میں ڈوب گیا، پھر اُسے اس پر لگے ہوئے پانی سمیت اوپر اُٹھایا، پھر اُسے اپنے بائیں ہاتھ پر ملا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q157]
حدیث نمبر: 157
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكًا عَنِ الرَّجُلِ مَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ فِي الْوُضُوءِ، أَيُجْزِيهِ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي وَضُوئِهِ مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّ يَدَيْهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ كُلَّهُ"
جناب اسحاق بن عیسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اُس شخص کے متعلق پوچھا جس نے وضو میں صرف پیشانی کا مسح کیا، کیا اسے یہ کافی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد سے اور اُنہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضو میں اپنی پیشانی سے گُدی تک اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی پیشانی پر لوٹا یا اور پورے سر کا مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، 192، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47،ابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 119، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694، والحميدي فى (مسنده) برقم: 421»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 157 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 157
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ سارے سر کا مسح مشروع اور باتفاق العلماء مستحب عمل ہے، کیونکہ اس عمل سے تمام سر مسح میں شامل ہو جاتا ہے اور سر کے سارے بالوں تک پانی پہنچ جاتا ہے۔ اور مالک، مزنی، جبائی اور احمد رحمہ اللہ سر کے تمام مسح کے وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 170/1]
➋ اس حدیث کی رو سے راجح مسئلہ یہی ہے کہ تمام سر کا مسح واجب ہے، کیونکہ قرآن میں سر کے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور حقیقت میں لفظ رأس تمام سر کے لیے مستعمل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تکمیل میں پورے سر کا مسح کیا بھی ہے۔ لہذا حقیقت سے مجاز کی طرف کسی صورت عدول درست نہیں، بلکہ اسے حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ [المغنى مع الشرح الكبير: 142/1]
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ سارے سر کا مسح مشروع اور باتفاق العلماء مستحب عمل ہے، کیونکہ اس عمل سے تمام سر مسح میں شامل ہو جاتا ہے اور سر کے سارے بالوں تک پانی پہنچ جاتا ہے۔ اور مالک، مزنی، جبائی اور احمد رحمہ اللہ سر کے تمام مسح کے وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 170/1]
➋ اس حدیث کی رو سے راجح مسئلہ یہی ہے کہ تمام سر کا مسح واجب ہے، کیونکہ قرآن میں سر کے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور حقیقت میں لفظ رأس تمام سر کے لیے مستعمل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تکمیل میں پورے سر کا مسح کیا بھی ہے۔ لہذا حقیقت سے مجاز کی طرف کسی صورت عدول درست نہیں، بلکہ اسے حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ [المغنى مع الشرح الكبير: 142/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 157]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 157 in Urdu
يحيى بن عمارة الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري