صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1046. (95) باب ذكر مخافتة الإمام القراءة فى الظهر والعصر، وإباحة الجهر ببعض الآي أحيانا فيما يخافت بالقراءة فى الصلاة
نماز ظہر اور عصر میں امام کا پوشیدہ آواز سے قراءت کرنے کا بیان کبھی کبھار سری نماز میں آیت کا کچھ حصّہ بلند آواز سے پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1588
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى ، نا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ، وَرُبَّمَا أَسْمَعَنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ"، وَفِي خَبَرِ خَبَّابٍ: كُنَّا نَعْرِفُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ"، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُخَافِتُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ. خَرَّجْتُ خَبَرَهُمَا فِي كِتَابِ الصَّلاةِ فِي أَبْوَابِ الْقِرَاءَةِ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں (سری، مخفی) قراءت کرتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو طویل ادا کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پنے ہونٹ مبارک ہلاتے تھے۔ اور سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کو آپ کی ڈاڑھی کی حرکت سے جانتے تھے۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ظہر اور عصر کی نمازوں میں مخفی قراءت کرتے تھے۔ میں نے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی روایات کو کتاب الصلاۃ کے ابواب القراءۃ میں بیان کیا ہے . [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 759، 762، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 208، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 503، 504، 507، 1580، 1588، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1829، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 973، وأبو داود فى (سننه) برقم: 798، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 819، 829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2499، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19728»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادة | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري، أبو إبراهيم، أبو يحيى عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1588 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1588
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر میں سری قرأت فرماتے تھے اور نمازِ عصر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
لہٰذا نمازِ ظہر و نمازِ عصر میں سری قرأت مشروع ہے۔
البتہ کبھی کبھار کسی آیت کو بلند آواز سے پڑھنا مباح ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر میں سری قرأت فرماتے تھے اور نمازِ عصر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
لہٰذا نمازِ ظہر و نمازِ عصر میں سری قرأت مشروع ہے۔
البتہ کبھی کبھار کسی آیت کو بلند آواز سے پڑھنا مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1588]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1588 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي