🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1050. (99) باب ذكر الخبر المفسر أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما كان يجهر فى الأوليين من المغرب، والأوليين من العشاء، لا فى جميع الركعات كلها،
یہ تفسیر کرنے والی روایت کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔ آپ ان کی تمام رکعات میں بلند آواز سے قراءت نہیں کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1592
مِنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ مُسْنَدًا، وَلَا أَخَالُ، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُ هَذَا الْخَبَرَ فِي هَذَا الْكِتَابِ إِذْ لَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْقِبْلَةِ فِي صِحَّةِ مَتْنِهِ، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتِ الْخَبَرُ مِنْ جِهَةِ الْإِسْنَادِ الَّذِي نَذْكُرُهُ.
تخریج الحدیث:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، نا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا بَيْنَ الرُّكْنِ، وَالْمَقَامِ إِذْ سَمِعَتْهُ يَقُولُ: أَحَدًا يُكَلِّمُهُ"، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" ثُمَّ نُودِيَ أَنَّ لَكَ بِكُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا، قَالَ: فَهَبَطْتُ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ، نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي صَفٍّ مِنَ الْمَلائِكَةِ، فَصَلَّى بِهِ، وَأَمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَائْتَمَّ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا، يُخَافِتُ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ، حَتَّى تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ، فَائْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ، حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ ثَلاثًا، يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي وَاحِدَةٍ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ: يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي اثْنَيْنِ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَبَاتُوا حَتَّى أَصْبَحُوا، نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ الْبَصْرِيُّونَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ، وَقَالُوا فِي آخِرِهِ قَالَ الْحَسَنُ:" فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ جِبْرِيلُ"، إِلَى آخِرِهِ، فَجَعَلَ الْخَبَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي إِمَامَةِ جِبْرِيلَ مُرْسَلا، عَنِ الْحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَدْرَجَ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَهَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ عَنْ أَنَسٍ، إِلا أَنَّ أَهْلَ الْقِبْلَةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاةِ فَكَمَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (سورہا) تھا جب میں نے کسی کو بات کرتے ہوئے سنا۔ پھر معراج والی مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر اعلان کیا گیا بیشک آپ کو ہر نماز کے بدلے دس گنا ثواب ملے گا۔ فرمایا: پھر میں نیچے اُتر آیا۔ پھر جب سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا تو جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک صف کے ساتھ نازل ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حُکم دیا تواُنہوں نے آپ کے پیچھے صف بنالی ـ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کی اقتدا کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار رکعات نماز پڑھائی اور آہستہ آواز سے قراءت کی، پھر صحابہ کو چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ سورج جھک گیا مگر ابھی وہ روشن اور سفید تھا (زرد نہیں ہوا تھا)۔ جبرائیل علیہ سلام نازل ہوئے اور انہیں چار رکعات پڑھائیں جن میں پوشیدہ قراءت کی۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کی اور نبی کریم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی۔ پھر انہیں سورج غروب ہونے تک چھوڑ دیا - پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہیں تین رکعات پڑھائیں، پہلی دو رکعتوں میں جہری قراءت کی اور تیسری رکعت میں پوشیدہ قراءت کی - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام اور صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ پھر جب شفق غائب ہوگئی جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہیں چار رکعات پڑھائیں۔ دو رکعات میں جہری اور دو رکعات میں سری قراءت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء کی اور نبی کریم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔ پھر لوگ سوگئے حتّیٰ کہ صبح ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام نا زل ہوئے اور انہیں دو رکعات پڑھائیں اور ان میں طویل قراءت کی۔ امام ابوبکر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ بصری راویوں نی یہ حدیث سعید اور انہوں نے حضرت قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے استاد سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے واقعہ معراج میں بیان کی ہے۔ روایت کے آخر میں وہ کہتے ہیں کہ امام حسن بصری فرماتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل گیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔۔۔۔ آخر تک۔ اسی طرح انہوں نے اس مقام سے آگے کی روایت حضرت حسن بصری رحمه الله سے مرسل بیان کی ہے۔ اور عکرمہ بن ابراہیم نے یہ قصّہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ واقعات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی صورت میں محفوظ اور ثابت نہیں ہے۔ مگر تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ نماز میں جہری اور سری قراءت کا جو تذکرہ اس حدیث میں آیا ہے وہ اسی طرح درست ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہوا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عكرمة بن إبراهيم الأزدي، أبو عبد الله، أبو عمرو
Newعكرمة بن إبراهيم الأزدي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ضعيف الحديث
👤←👥عمرو بن الربيع الهلالي، أبو حفص
Newعمرو بن الربيع الهلالي ← عكرمة بن إبراهيم الأزدي
ثقة
👤←👥زكريا بن يحيى المصري، أبو علي
Newزكريا بن يحيى المصري ← عمرو بن الربيع الهلالي
مجهول الحال