یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1063. (112) باب قدر قراءة الإمام الذى لا يكون تطويلا.
امام کی قراءت کی اس مقدار کا بیان جو طویل شمار نہیں ہوگی
حدیث نمبر: 1607
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّارُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلاةَ مَعَنَا، قُلْتُ: مَا لَكَ لا تُصَلِّي مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ الصَّلاةَ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ثَلاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ
جناب ابراہیم التیمی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد گرامی نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی تو میں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک تم بہت ہلکی نماز پڑھتے ہو(اس لئے میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھتا) ـ میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کدھر گیا کہ بلا شبہ تم میں کمزور، عمر رسیدہ، اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں ـ (اس لئے ہلکی نماز پڑھایا کرو) اُنہوں نے جواب دیا کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ پھر انہوں نے ہمیں تمہاری نماز سے تین گنا زائد طویل نماز پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10945، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3262، وأخرجه الطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1091»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1607 in Urdu
يزيد بن شريك التيمي ← عبد الله بن مسعود