صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1077. (126) باب الرخصة فى الاقتداء بالمصلي الذى ينوي الصلاة منفردا، ولا ينوي إمامة المقتدي به.
ایسے نمازی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان جو اکیلے نماز پڑھنے کی نیت سے نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی نیت مقتدی امامت کرانا نہ ہو
حدیث نمبر: 1627
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، ثنا أَنَسٌ. ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَيْضًا، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِمَكَانِهِمْ تَجَوَّزَ فِي صَلاتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْنَا بِصَلاتِكَ اللَّيْلَةَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ نَبْسُطَ، قَالَ:" عَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی حجرے میں (نفل) نماز ادا فرمائی تو کچھ مسلمانوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا علم ہو گیا) تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مختصر کردی، پھر آپ گھر تشریف لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (تو لوگ ابھی موجود تھے) لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کئی بار کیا۔ جب صبح ہوئی تو اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گزشتہ رات ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ہے، اور ہم اسے وسیع پیمانے پر ادا کرنا چاہتے ہیں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ کام عمداََ کیا ہے (تا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1104، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1627، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12187»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1627 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1627
فوائد:
➊ اگر فاضل شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے پیچھے بعد میں آنے والے لوگ باجماعت نماز کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
➋ نماز باجماعت کے لیے شروع ہی میں نیت کرنا لازم نہیں، بلکہ اگر دورانِ نماز جماعت کی صورت بن جائے تو اسی دوران نماز باجماعت کی نیت کر کے نماز کا آغاز کرنا مشروع ہے۔
➌ امام اور مقتدیوں کے درمیان پردہ یا دیوار کی اوٹ ہو تو بھی اتباع جائز ہے۔
➊ اگر فاضل شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے پیچھے بعد میں آنے والے لوگ باجماعت نماز کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
➋ نماز باجماعت کے لیے شروع ہی میں نیت کرنا لازم نہیں، بلکہ اگر دورانِ نماز جماعت کی صورت بن جائے تو اسی دوران نماز باجماعت کی نیت کر کے نماز کا آغاز کرنا مشروع ہے۔
➌ امام اور مقتدیوں کے درمیان پردہ یا دیوار کی اوٹ ہو تو بھی اتباع جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1627]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1627 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري