صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1126. (175) باب اختيار صلاة المرأة فى بيتها على صلاتها فى المسجد، إن ثبت الخبر،
عورت کی مسجد میں نماز سے، اُس کی اپنے گھر میں نماز بہتر ہے اگر اس سلسلے میں مروی حدیث ثابت ہو
حدیث نمبر: 1685
نا أَبُو مُوسَى ، نا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَكُونُ مِنْ وَجْهِ رَبِّهَا وَهِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عورت چھپانے کی چیز ہے لہٰذا جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اُسے گھورتا ہے (اور لوگوں کو خوب مزیّن کرکے دکھاتا ہے) اور عورت اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کے قریب اُس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرہوتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1685 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1685
فوائد:
➊ خطبہ کے آغاز میں حمد و ثنا اور مذکورہ کلمات و خطبات کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ خطیب کا بلند آواز سے خطبہ ارشاد کرنا، خطبہ میں اختصار کرنا اور ترہیب کے لیے جامع کلمات استعمال کرنا مستحب فعل ہے۔
➊ خطبہ کے آغاز میں حمد و ثنا اور مذکورہ کلمات و خطبات کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ خطیب کا بلند آواز سے خطبہ ارشاد کرنا، خطبہ میں اختصار کرنا اور ترہیب کے لیے جامع کلمات استعمال کرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1685]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1685 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود