صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1133. (182) باب الزجر عن رفع النساء رءوسهن من السجود، إذا صلين مع الرجال قبل استواء الرجال جلوسا، إذا ضاقت أزرهم، فخيف أن يرى النساء عوراتهم.
عورتیں جب مردوں کے ساتھ نماز (باجماعت) ادا کررہی ہوں تو مردوں کے سیدھے بیٹھ جانے سے پہلے انہیں اپنے سر سجدے سے اُٹھانا منع ہے جبکہ مردوں کے تہ بند تنگ اور چھوٹے ہوں اور یہ خدشہ ہو کہ عورتوں کی نظر اس کے ستر پر پڑے گی
حدیث نمبر: 1695
نا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " كُنَّ النِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ فِي الصَّلاةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ حَتَّى يَأْخُذَ الرِّجَالُ مَقَاعِدَهُمْ مِنْ قَبَاحَةِ الثِّيَابِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ فِي أَبْوَابِ اللِّبَاسِ فِي الصَّلاةِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں (مردوں کے) کپڑوں تنگ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو نماز میں حُکم دیا جاتا تھا کہ وہ مردوں کے ٹھیک طرح سے بیٹھنے تک اپنے سر (سجدے سے) نہ اُٹھائیں -“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں: ”ثوری رحمه الله کی ابوحازم سے روایت کو میں کتاب الکبیر میں ”نماز میں لباس کے ابواب“ میں بیان کر چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2216، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7542، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5763»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1695 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1695
فوائد:
➊ عورتیں مردوں کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھائیں، اس کی علت یہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسموں پر معمولی چادریں ہوتی تھیں اور سجدے کی حالت میں شرمگاہوں کے کھلنے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس خطرے کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو تاکید کی کہ مردوں کے سجدے سے اٹھ جانے کے بعد وہ سجدے سے اٹھیں۔
➋ عورتوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوتی ہیں، اس لحاظ سے بھی ارکانِ نماز میں عورتیں مردوں کے پیچھے چلیں گی اور عورتیں مردوں کے ارکانِ نماز پر عمل کرنے کے بعد کچھ وقفے سے یہ اعمال انجام دیں گی۔
➊ عورتیں مردوں کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھائیں، اس کی علت یہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسموں پر معمولی چادریں ہوتی تھیں اور سجدے کی حالت میں شرمگاہوں کے کھلنے کا خطرہ رہتا تھا۔ اس خطرے کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو تاکید کی کہ مردوں کے سجدے سے اٹھ جانے کے بعد وہ سجدے سے اٹھیں۔
➋ عورتوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوتی ہیں، اس لحاظ سے بھی ارکانِ نماز میں عورتیں مردوں کے پیچھے چلیں گی اور عورتیں مردوں کے ارکانِ نماز پر عمل کرنے کے بعد کچھ وقفے سے یہ اعمال انجام دیں گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1695]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1695 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي