🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1145. (194) باب رد المأموم على الإمام إذا سلم الإمام عند انقضاء الصلاة.
جب نماز کے اختتام پر امام سلام پھیرے گا تو مقتدی کو امام کے سلام کا جواب دینا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1711
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى أَئِمَّتِنَا السَّلامَ , وَأَنْ نَتَحَابَّ , وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا سورة النساء آية 86 , وَفِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَلَى مَنْ عَنْ شِمَالِهِ، دِلالَةً عَلَى أَنَّ الإِمَامَ يُسَلِّمُ مِنَ الصَّلاةِ عِنْدَ انْقِضَائِهَا عَلَى مَنْ عَنِ يَمِينِهِ مِنَ النَّاسِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَلَى مَنْ عَنْ شِمَالِهِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ بِرَدِّ السَّلامِ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي قَوْلِهِ: وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا سورة النساء آية 86، فَوَاجِبٌ عَلَى الْمَأْمُومِ رَدُّ السَّلامِ عَلَى الإِمَامِ إِذَا الإِمَامُ سَلَّمَ عَلَى الْمَأْمُومِ عِنْدَ انْقِضَاءِ الصَّلاةِ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کے سلام کا جواب دیں، باہمی محبت و الفت کریں اور ایک دوسرے کو سلام کریں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے «‏‏‏‏وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا» ‏‏‏‏ [ سورة النساء: 86 ] اور جب تمہیں سلام کہا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا وہی لوٹا دو - اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ پھر اپنی دائیں جانب والوں اور اپنی بائیں جانب والوں کو سلام کہے - یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام جب نماز کے اختتام پر اپنی دائیں طرف سلام پھیرے گا تو اپنی دائیں جانب والے لوگوں کو سلام کہے گا اور جب اپنی بائیں جانب سلام پھیرے گا تو اپنی بائیں جانب والے لوگوں کو سلام کہے گا - اور اللہ تعالیٰ نے مسلمان شخص کے سلام کا جواب دینے کا حُکم دیا ہے - ارشاد باری تعالیٰ ہے «‏‏‏‏وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا» ‏‏‏‏ [ سورة النساء: 86 ] اور جب تمہیں سلام کہا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا وہی لوٹا دو۔ چنانچہ مقتدی کو امام کے سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ امام نے نماز کے اختتام پر سلام پھیرتے وقت مقتدیوں ہی کو سلام کہا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1710، 1711، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1000، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1001، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 921، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3043، 3044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1357»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن بشير الأزدي، أبو هشام، أبو سلمة، أبو عبد الرحمن
Newسعيد بن بشير الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن عثمان التنوخي، أبو الجماهر، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عثمان التنوخي ← سعيد بن بشير الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن عثمان التنوخي
ثقة حافظ جليل
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1711 in Urdu