صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
خطبہ جمعہ کے دوران خطیب کا جمعہ کے دن غسل کرنے کا حُکم دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1751
نا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ ، نا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَغْتَسِلْ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے: ”جب تم میں سے کوئی شخص (جمعہ کے لئے) مسجد میں آئے تو اُسے غسل کرلینا چاہیے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 877، 894، 919، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 844، ومالك فى (الموطأ) برقم: 338، وابن الجارود فى "المنتقى"، 312، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1749، 1750، 1751، 1752، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1223، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1375، والترمذي فى (جامعه) برقم: 492، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1088، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3116»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥الفضيل بن سليمان النميري، أبو سليمان الفضيل بن سليمان النميري ← موسى بن عقبة القرشي | صدوق له خطأ كثير | |
👤←👥الحسن بن قزعة القرشي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن قزعة القرشي ← الفضيل بن سليمان النميري | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1751 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1751
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ جمعہ کے دن کا غسل مشروع ہے۔ پھر غسل جمعہ واجب ہے یا مستحب اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ، سلف کی ایک جماعت اور اہل ظاہر غسل جمعہ کے وجوب کے قائل ہیں اور جمہور علماء اس کے استحباب کے قائل ہیں۔
➋ احادیثِ الباب جمعہ کے وجوب و فرضیت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ ٹھوس دلائل فرضیتِ جمعہ کے موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔
➌ جن احادیث سے غسلِ جمعہ کے وجوب کو استحباب پر محمول کیا جاتا ہے کچھ ضعیف، کچھ غیر واضح اور کچھ فرضیتِ غسل کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔ لہذا کوئی ایسی واضح دلیل نہیں جو غسلِ جمعہ کے حکم کو استحباب پر محمول کرتی ہو۔
➍ فرضیتِ غسلِ جمعہ کے دلائل واضح، اصیل اور ٹھوس ہیں، جب کہ جن روایات سے استحباب کی دلیل لی جاتی ہے ان کی اسنادی حیثیت مشکوک ہے اور ان کا مفہوم غیر واضح ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ جمعہ کے دن کا غسل مشروع ہے۔ پھر غسل جمعہ واجب ہے یا مستحب اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ، سلف کی ایک جماعت اور اہل ظاہر غسل جمعہ کے وجوب کے قائل ہیں اور جمہور علماء اس کے استحباب کے قائل ہیں۔
➋ احادیثِ الباب جمعہ کے وجوب و فرضیت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ ٹھوس دلائل فرضیتِ جمعہ کے موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔
➌ جن احادیث سے غسلِ جمعہ کے وجوب کو استحباب پر محمول کیا جاتا ہے کچھ ضعیف، کچھ غیر واضح اور کچھ فرضیتِ غسل کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔ لہذا کوئی ایسی واضح دلیل نہیں جو غسلِ جمعہ کے حکم کو استحباب پر محمول کرتی ہو۔
➍ فرضیتِ غسلِ جمعہ کے دلائل واضح، اصیل اور ٹھوس ہیں، جب کہ جن روایات سے استحباب کی دلیل لی جاتی ہے ان کی اسنادی حیثیت مشکوک ہے اور ان کا مفہوم غیر واضح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1751]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1751 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي