صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ کے دن خطبوں کی تعداد، دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔ اس شخص کے قول کے برخلاف جو سنّت نبوی سے جاہل ہے اور سنّت کو بدعت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا بدعت ہے
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 1781
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ , يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ بُنْدَارًا يَقُولُ: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُجِلُّ هَذَا الشَّيْخَ يَعْنِي الْبَكْرَاوِيَّ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے جناب بندار کو فرماتے ہوئے سُنا کہ امام یحییٰ بن سعید رحمه الله شیخ بکراوی کو بلند مرتبہ قرار دیتے تھے اور ان کی عزت وتکریم کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1781]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي