صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ کے دن خطبہ کے دوران منبر پر امام سے سوال کیا جائے تو اسے علمی جواب دینے کی رخصت ہے۔ ان علماء کے موقف کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ خطبہ نماز کی طرح ہے اور اس میں ایسی کلام کرنا جائز نہیں جو کلام نماز میں جائز نہیں
حدیث نمبر: 1796
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شَرِيكٌ ......... عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى السَّاعَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ أَنِ اسْكُتْ , فَسَأَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ , كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ:" وَيْحَكَ مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ , قَالَ:" إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً , ثُمَّ مَرَّ غُلامٌ شَنَئِيٌّ , قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً , ثُمَّ مَرَّ غُلامٌ شَنَئِيٌّ , قَالَ أَنَسٌ : أَقُولُ: أَنَا هُوَ، مِنْ أَقْرَانِي قَدِ احْتَلَمَ , أَوْ نَاهَزَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" قَالَ: هَا هُوَ ذَا , قَالَ:" إِنْ أَكْمَلَ هَذَا الْغُلامُ عُمُرَهُ فَلَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَرَى أَشْرَاطَهَا"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رواتے ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول، قیامت کب آئے گی؟ صحابہ کرام نے اُسے اشارہ کیا کہ خاموش ہو جاؤ۔ تو اُس نے تین بار آپ سے یہی سوال کیا۔ ہر مرتبہ صحابہ کرام اُسے اشارہ کرتے کہ خاموش ہو جاؤ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ سوال کرنے سے فرمایا: ”تیرا بھلا ہو تُو نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے؟“ اُس نے جواب دیا کہ اللہ اور اُس کے رسول کی محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً تم اُسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ـ پھر ایک نوجوان لڑکا گزرا - سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ وہ میرا ہم عمر تھا ـ وہ بالغ ہو چکا تھا یا بلوغت کے قریب تھا ـ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اُس نے کہا کہ میں یہاں موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس لڑکے نے عمر مکمّل کرلی تو وہ قیامت کی علامات دیکھے بغیر ہرگز فوت نہیں ہوگا ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3688، 6167، 6171، 7153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1796، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 8، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2385، 2386، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12195»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1796 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1796
فوائد:
➊ دوران خطبہ امام سے کسی مسئلے کے بارے میں سوال کرنا جائز ہے اور امام کو متعلقہ سوال کا جواب احسن انداز سے دینا چاہیے۔
➋ قیامت کب وقوع پذیر ہوگی، اس جیسے سوالات کے بجائے قیامت کی تیاری کرنی چاہیے اور قیامت کے دن کا بہترین سرمایہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔
➊ دوران خطبہ امام سے کسی مسئلے کے بارے میں سوال کرنا جائز ہے اور امام کو متعلقہ سوال کا جواب احسن انداز سے دینا چاہیے۔
➋ قیامت کب وقوع پذیر ہوگی، اس جیسے سوالات کے بجائے قیامت کی تیاری کرنی چاہیے اور قیامت کے دن کا بہترین سرمایہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1796]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1796 in Urdu
شريك بن عبد الله الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري