صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
کسی ضرورت کے پیش آنے پر امام کا خطبہ منقطع کرکے منبر سے نیچے اُترنے کا بیان
حدیث نمبر: 1801
نا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، نا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ , فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، إِنَّمَا أَمْوَالَكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ"، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آگئے اّن دونوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھیں۔ وہ کپڑے میں پاؤں الجھنے سے کبھی گر جاتے اور پھر اُٹھ جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اُنہیں اُٹھا لیا، پھر اُنہیں اپنے سامنے بیٹھا لیا اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے، بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزئش کا باعث ہیں۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا ـ“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ شروع کر دیا - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي