صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ والے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔ اور امام دوران خطبہ اس حرکت سے منع کر سکتا ہے
امام بو بکر رحمه الله فرماتے ہیں شریک بن عبدالله کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت میں مذکور قیامت کے بارے میں سوال کرنے والے کے قصّے میں ہے کہ ”تو لوگوں نے اُسے اشارہ کیا کہ خاموش ہو جاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: Q1811]
حدیث نمبر: 1811
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى خَرَجَ الإِمَامُ , فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لِي: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ:" اجْلِسْ , فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخُطْبَةِ أَيْضًا أَبْوَابٌ قَدْ كُنْتُ خَرَّجْتُهَا فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ
جناب زاہریہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت عبداللہ بن بسر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو وہ امام کے تشریف لانے تک مسلسل ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ تو ایک شخص آیا، اُس نے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا شروع کر دیا تو اُنہوں نے مجھ سے فرمایا۔ کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے کہا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے (دوسروں کو) تکلیف دی ہے اور دیر سے بھی آئے ہو ـ“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ خطبہ کے متعلق اور ابواب بھی ہیں جنہیں میں کتاب العیدین میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 323، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1811، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2790، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1065، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1398، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1118، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5967، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17950»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1811 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1811
فوائد:
➊ خطبہ جمعہ کے دوران حاضرینِ جمعہ کی گردنیں پھلانگنا جائز نہیں ہے۔
اس سے جمعہ کا اجر و ثواب ختم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اس قبیح فعل سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ یہ حاضرین کی ایذارسانی اور اجر و ثواب سے محرومی کا باعث ہے۔
➊ خطبہ جمعہ کے دوران حاضرینِ جمعہ کی گردنیں پھلانگنا جائز نہیں ہے۔
اس سے جمعہ کا اجر و ثواب ختم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اس قبیح فعل سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ یہ حاضرین کی ایذارسانی اور اجر و ثواب سے محرومی کا باعث ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1811]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1811 in Urdu
حدير بن كريب الحضرمي ← عبد الله بن بسر النصري