علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ میں لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت اور اس سے اجتناب کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1812
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، فَلَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِهِ , وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ طِيبًا , أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ , وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، إِلا غُفِرَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى" . قَالَ بُنْدَارٌ: أَحْفَظُهُ مِنْ فِيهِ , عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ بُنْدَارًا فِي هَذَا , وَالْجَوَادُ قَدْ يَفْتُرُ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا تو بہترین غسل کیا۔ یا اُس نے وضو کیا تو اچھا وضوکیا، پھر اپنا عمدہ لباس پہنا اور اللہ کی عطا کی ہوئی خوشبو لگائی یا اپنے گھر والوں کا (تیار کردہ) تیل لگایا اور اُس نے دو (بیٹھنے والوں) کے درمیان جدائی نہ ڈالی تو اُس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ جناب بندار کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت استاد محترم کے مُنہ سے اُن کے باپ کے واسطے سے سُنی ہے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی راوی نے جناب بندار کی اس روایت میں متابعت کی ہو۔ اور ماہر شاہسوار بھی کبھی کو تاہی کر جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1812 in Urdu
عبد الله بن وديعة الأنصاري ← أبو ذر الغفاري