صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ میں لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت اور اس سے اجتناب کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1812
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، فَلَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِهِ , وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ طِيبًا , أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ , وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، إِلا غُفِرَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى" . قَالَ بُنْدَارٌ: أَحْفَظُهُ مِنْ فِيهِ , عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ بُنْدَارًا فِي هَذَا , وَالْجَوَادُ قَدْ يَفْتُرُ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا تو بہترین غسل کیا۔ یا اُس نے وضو کیا تو اچھا وضوکیا، پھر اپنا عمدہ لباس پہنا اور اللہ کی عطا کی ہوئی خوشبو لگائی یا اپنے گھر والوں کا (تیار کردہ) تیل لگایا اور اُس نے دو (بیٹھنے والوں) کے درمیان جدائی نہ ڈالی تو اُس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ جناب بندار کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت استاد محترم کے مُنہ سے اُن کے باپ کے واسطے سے سُنی ہے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی راوی نے جناب بندار کی اس روایت میں متابعت کی ہو۔ اور ماہر شاہسوار بھی کبھی کو تاہی کر جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1763، 1764، 1812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1078، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21940، 21970، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 479، والحميدي فى (مسنده) برقم: 138، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5589»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1812 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1812
فوائد:
➊ دورانِ خطبہ جمعہ سامعین میں گھسنا اور انہیں جدا کر کے زبردستی صف میں داخل ہونا ناجائز ہے، اس سے سامعین کو تکلیف ہوتی ہے۔
➋ دورانِ خطبہ ہر ایسا فعل مکروہ ہے جو حاضرین کی ایذا اور خطبہ جمعہ میں خلل کا باعث بنے۔
➊ دورانِ خطبہ جمعہ سامعین میں گھسنا اور انہیں جدا کر کے زبردستی صف میں داخل ہونا ناجائز ہے، اس سے سامعین کو تکلیف ہوتی ہے۔
➋ دورانِ خطبہ ہر ایسا فعل مکروہ ہے جو حاضرین کی ایذا اور خطبہ جمعہ میں خلل کا باعث بنے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1812]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1812 in Urdu
عبد الله بن وديعة الأنصاري ← أبو ذر الغفاري