صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
شدید گرمی میں نماز جمعہ کو ٹھنڈا کرنے اور جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1842
نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَلْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَنَادَاهُ يَزِيدُ الضَّبِّيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، قَدْ شَهِدْتَ الصَّلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتَ الصَّلاةَ مَعَنَا، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، أَبْرَدَ بِالصَّلاةِ"
جناب ابوخلدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سُنا جبکہ حجاج بن یوسف کے زمانہ اقتدار میں جمعہ کے دن جناب یزید الضبی نے اُنہیں پکارا تو کہا کہ اے ابوحمزہ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ہمارے ساتھ بھی نماز جمعہ ادا کی ہے۔ تو آپ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے ادا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی شدید ہوتی تو نماز جلدی ادا کرلیتے اور جب گرمی شدید ہوتی تو نماز کو ٹھنڈا کرلیتے - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 906، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1842، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 498، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5759»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1842 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1842
فوائد:
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: احادیثِ باب دلیل ہیں کہ جمعہ میں تعجیل مشروع ہے اور امام مالک، ابو حنیفہ، شافعی، جمہور صحابہ و تابعین کا موقف ہے کہ زوالِ آفتاب سے قبل جمعہ کا انعقاد جائز نہیں۔
اس مسئلہ میں جمہور علماء کی مخالفت فقط امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے، یہ دونوں ائمہ کہتے ہیں کہ زوالِ آفتاب سے قبل جمعہ کا اہتمام جائز ہے۔
جب کہ جمہور علماء نے تعجیلِ جمعہ کی روایات کو تعجیلِ جمعہ میں مبالغہ پر محمول کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کے دن دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ سے اس لیے مؤخر کرتے تھے کہ وہ جمعہ کے لیے تعجیل کو مستحب سمجھتے تھے اور نمازِ جمعہ سے قبل کسی اور کام میں مشغولیت سے جمعہ کے فوت ہونے سے خائف تھے، یہ جمعہ میں جلد شامل ہونے کے اجر و ثواب کے فوت ہونے سے ترساں رہتے تھے۔ [شرح النووي: 148/6]
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: احادیثِ باب دلیل ہیں کہ جمعہ میں تعجیل مشروع ہے اور امام مالک، ابو حنیفہ، شافعی، جمہور صحابہ و تابعین کا موقف ہے کہ زوالِ آفتاب سے قبل جمعہ کا انعقاد جائز نہیں۔
اس مسئلہ میں جمہور علماء کی مخالفت فقط امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے، یہ دونوں ائمہ کہتے ہیں کہ زوالِ آفتاب سے قبل جمعہ کا اہتمام جائز ہے۔
جب کہ جمہور علماء نے تعجیلِ جمعہ کی روایات کو تعجیلِ جمعہ میں مبالغہ پر محمول کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کے دن دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ سے اس لیے مؤخر کرتے تھے کہ وہ جمعہ کے لیے تعجیل کو مستحب سمجھتے تھے اور نمازِ جمعہ سے قبل کسی اور کام میں مشغولیت سے جمعہ کے فوت ہونے سے خائف تھے، یہ جمعہ میں جلد شامل ہونے کے اجر و ثواب کے فوت ہونے سے ترساں رہتے تھے۔ [شرح النووي: 148/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1842]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1842 in Urdu
خالد بن دينار التميمي ← أنس بن مالك الأنصاري